خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 826
خطبات طاہر جلد 13 826 خطبه جمعه فرموده 6 مئی 1994ء نے اس بھیڑیے کی طرح جو بھیڑ کا لباس اوڑھے ہوئے ہو، بھیڑ کی کھال میں لپٹا ہو ہم سے سلوک کیا اور جتنا قرب تھا وہ دور یوں میں تبدیل ہو گیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں یہ ایک انفرادی ہو بعض کمزوری ہے اور جماعت اچھی ہو گی لیکن بعض یہ کہتے ہیں کہ اب ہمارا دل ہی اتر گیا ہے۔ بعض دفعہ جب تحقیق کی گئی تو مبالغہ نکلا ، بہت دفعہ جب تحقیق کی گئی تو اگر چہ کچھ نہ کچھ حقیقت تھی لیکن پھر بھی بہت مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا تھا۔ لیکن بعض دفعہ جماعت کی طرف سے اس کی پوری تصدیق آتی ہے کہ یہ انسان جو یہ خط لکھنے والا ہے شریف آدمی ہے جھوٹ نہیں بول رہا واقعہ اس کے ساتھ یہ ہوا ہے۔ تو وہ شخص جو اپنی بداخلاقی کی وجہ سے کسی کو جہنم میں پھینکنے کا موجب بن جائے وہ خدا سے جنت کی توقع کیسے رکھے گا۔ جو جنت کے منادی ہیں انہی کو جنت عطا ہوا کرتی ہے جو جہنم کی طرف دعوت دینے والے ہیں ان کا مقدر بھی یہی بن جاتا ہے۔ صلى الله پس آنحضور ﷺ کی نصائح پر غور کریں اور ان پر عمل کا منصوبہ بنائیں کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا عروسه صلى الله ہے بار بار کہنے کے باوجود مجھے ابھی اطمینان نہیں ہے کہ آپ میری بات سمجھ گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بات سنتے وقت آپ ادب سے سنیں گے۔ مجھے پتا ہے کہ احترام کریں گے مگر ایسی باتیں ہیں جن کو اپنی زندگی میں جاری کرنا آسان نہیں ہے۔ اپنے اپنے طور پر ہر شخص اپنی کیفیات کا اور عادات کا جائزہ لے کر ایک منصوبہ بنائے پھر امید ہو سکتی ہے کہ اس کا یہ سنجیدہ فیصلہ اور رسول اللہ لا لہ اور رسول اللہ ﷺ کی نصیحت الله کے سامنے سر جھکانا اللہ کے ہاں مقبول ٹھہرے اور آسمان سے وہ مدد ملے جس کے نتیجہ میں مشکل کام آسان کر دیئے جاتے ہیں ۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ (آمین )