خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 825 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 825

خطبات طاہر جلد 13 825 خطبه جمعه فرموده 28 اکتوبر 1994ء آپ کو سمجھا رہا ہوں آپ گھر ہی نہیں دنیا اجاڑ نے والے بنیں گے کیونکہ آپ کی بد زیبی جو بداخلاقی کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے اس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ جو آپ کے حوالے سے اسلام میں دلچسپی لے سکتے تھے وہ اسلام سے تا ۔ وہ اسلام سے متنفر ہو رہے ہیں اور اسلام سے دور ہٹ رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں آپ ان سب کے ذمہ دار ہو جائیں گے تو محض اپنا گھر ہی نہیں اجاڑ رہے بلکہ دنیا کے گھر بھی اجاڑ نے والے بن گئے ہیں ۔ اگر ایک مومن اپنے گھر میں نرمی اور رفق کا سلوک کرتا ہے اور اپنے بچوں سے بھی پیار اور محبت اور ادب کا سلوک کرتا ہے اور بے وجہ بنتی نہیں کرتا کیونکہ بعض اوقات سختی بھی اخلاق کا حصہ ہوتی ہے اور وہ نرمی اور رفق کے خلاف نہیں ہوتی ۔ اگر یہ خلاف ہوتی تو آنحضرت ﷺ بھی کبھی سختی نہ کرتے لیکن نرمی اور رفق اور رفق اور حلم جو باتیں بیان فرمائی گئی ہیں ان کی پہچان یہ ہے کہ ایسا شخص جب سختی بھی کرتا ہے تو دور نہیں پھینکتا۔ وقتی طور پر ایک شخص تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن پھر بلا اختیار بے ساختہ اس طرف واپس لوٹ آتا ہے نرمی اور پیار اور محبت کے نتیجے میں جو کشش پیدا ہوتی ہے وہ کشش ثقل کی طرح ایک حاوی بالا طاقت رکھتی ہے۔ آپ چھلانگ لگا کر زمین سے کچھ دور جا سکتے ہیں لیکن واپس پھر یہیں آنا ہے ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آپ کتنا اونچا چلے جائیں گے لیکن پھر یہیں گرنا ہے یا یہیں اترنا ہے۔ پس نرمی اس کشش ثقل کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور وقتی سختی سے اگر کوئی دور ہٹتا بھی ہے تو کچھ عرصہ کے لئے ہٹ سکتا ہے ہمیشہ کے لئے نہیں لیکن جو بد خلق لوگ ہیں ان کے پاس آنا مصیبت ہے۔ وہ ہر وقت دھکا دے رہے ہیں جس طرح ایک ہی پول اپنے جیسے پول کے قریب ہو جائے تو ایسا ہی منظر پیدا ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کو دھکا دینے لگ جاتے ہیں اور بڑی کوشش کے ساتھ آپ ان کو جوڑیں گے جب ہاتھ ہٹائیں گے پھر وہ پرے ہٹ جائیں گے۔ تو بد خلق آدمی کا یہ حال ہوتا ہے اس کے پاس ٹھہرنا مصیبت ، اس کے قریب آنا عذاب اور بڑی محنت کے ساتھ انسان اس کے پاس رہ سکتا ہے پھر جب وہ دباؤ ہٹے تو پھر واپس چلا جاتا ہے۔ تو ایسے لوگ جو بد اخلاق ہیں وہ اپنے ماحول کو اپنے گھر کو ہی نہیں سارے ماحول کو ، غیروں کو بھی دھکا دے رہے ہیں ۔ چنانچہ بعض اوقات اس بات سے مجھے بہت تکلیف پہنچتی ہے کہ بعض غیر احمدی یہ خط لکھتے ہیں کہ ہم احمدیت کے اخلاق سے عموما متاثر ہو کر قریب آ رہے تھے لیکن ایک ایسا شخص مل گیا جس