خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 824
خطبات طاہر جلد 13 824 خطبه جمعه فرموده 28 اکتوبر 1994ء رفق لمبی تربیت کو چاہتے ہیں جن گھروں میں ماں باپ ترش رو ہوں اور بدکلام ہوں اور بات بات میں جھگڑنے والے ہوں بعض دفعہ ان کے بچوں میں رد عمل پیدا ہوتا ہے اور نرمی بھی پیدا ہو جاتی ہے لیکن اس نرمی کے ساتھ اپنے ماں باپ کے خلاف نفرت اور ان سے دوری بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ایک طرف وہ نرمی سے لوگوں کی طرف جھکتے ہیں کیونکہ ان کو رد عمل ہو جاتا ہے اور دوسری طرف جن سے۔حسن سلوک کا قرآن حکم دیتا ہے ان سے وہ دور چلے جاتے ہیں۔تو یہ نرمی بھی برائی سے خالی نہیں ہوتی۔اصل اخلاق کی نرمی وہ ہے جو بچہ اپنے با اخلاق ، نرم رو اور خلیق ماں باپ سے سیکھتا ہے۔جس کے گھر میں گفتگو تہذیب سے ہو رہی ہے اس کے گھر میں بچے بالعموم بہت نرم رو پیدا ہوتے ہیں اور جب بڑے ہوتے ہیں تو معاشرے میں بھی ان کے گوشے سب دوسروں کے لئے نرم رہتے ہیں اور بد اخلاق گھروں میں بد اخلاق لوگ پیدا ہوتے ہیں۔اب ان کو آپ نصیحت کر کے دیکھ لیں نصیحت کا اثر نہیں ہوتا۔آنحضرت مے کے حوالے سے ایک بات کہی جارہی ہے لیکن شاذ ہی ہوگا جو بچپن سے بدخلق ہو تو یہ بات سنتے ہی ایک دم نرم رو ہو جائے۔اس لئے میں یہ سمجھا رہا ہوں کہ اتنی اہم نصیحت کو اگر آپ نے سنجیدگی سے دیکھنا ہے تو اس کے لئے لمبی محنت درکار ہوگی سب سے اول تو اپنے گھروں میں اپنا ما حول درست کریں اپنے تعلقات اپنی بیوی سے اور بیویاں اپنے تعلقات اپنے خاوندوں سے اور پھر ماں باپ اپنے بچوں سے اس طرح استوار کریں کہ تمام تعلقات میں ملائمت پائی جائے اور درشتگی نہ ہو سختی نہ ہو کیونکہ جب کھردرا پن آئے تو اس سے پھر آگ پیدا ہوتی ہے جتنا بھی آپس کے معاملات میں کھردرا پن پیدا ہو اتنا ہی اس سے قانون فطرت کے طور پر آگ پیدا ہوتی ہے اور وہی آگ ہے جو غصے میں تبدیل ہوتی ہے جو بعض دفعہ سارے معاشرے کو جلا دیا کرتی ہے۔تو نصیحت کر دینا کافی نہیں ہے اس لئے مجھے آپ کو سمجھانا پڑ رہا ہے۔یہ وہ نصیحت ہے جس پر عمل بہت لمبی محنت کو ، بڑی گہری توجہ کو چاہتا ہے۔ہر وقت، ہر آن اپنے گھروں کے ماحول پر نظر رکھیں، اپنے اندر اگر پہلے تختی تھی تو اسے رفتہ رفتہ نرمی میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔بار بار یا درکھیں کہ آنحضرت ﷺ آپ سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو آپ بد زیب بنے رہیں گے، ہمکر وہ صورت ہو جائیں گے کوئی آپ کی طرف توجہ نہیں دے گا۔پس معاشرے میں تو بداخلاقی سے پہلے ہی بہت گھر اجڑ گئے ہیں لیکن جس تعلق میں میں