خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 77
خطبات طاہر جلد 13 77 خطبہ جمعہ فرمودہ 28/جنوری1994ء میں ایک تیمار دار کی طرح جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے اس ناشناس قوم کے لئے سخت اندوہ گیں ہوں۔اے میرے اللہ تو نے مجھے اس دور کا مسیحا بنا دیا ہے، میں ان بیماروں کا تیمار دار بنایا گیا ہوں۔“ پس اس کی طرح جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے جیسے ماں بچے کے غم میں مبتلا ہویا باپ بیٹے اور بیٹی کے غم میں مبتلا ہو اس طرح میں اس قوم کے غم میں مبتلا کر دیا گیا ہوں۔”اس ناشناس کے لئے ایسی قوم کا مجھے غم لگ گیا ہے جو پہچانتی نہیں کہ اس کا مسیحا کون ہے۔بیمار اتنی کہ قبروں میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھی ہے اور حالت یہ ہے کہ اپنے مسیحا کو پہچانتی نہیں۔دعا کرتا ہوں کہ اے قادر و ذو الجلال خدا۔ہمارے ہادی اور راہنما۔تو لوگوں کی آنکھیں کھول اور آپ ان کو بصیرت بخش اور آپ ان دلوں کو سچائی اور راستی کا الہام بخش۔“ آخر پر میں چند مرحومین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ابھی بھی دن چونکہ چھوٹے ہیں، نماز جمعہ کے بعد نماز عصر ہوگی اس کے معابعد نماز جنازہ غائب ہوگی۔سب سے پہلے صوفی بشارت الرحمن صاحب وکیل التعلیم کی وفات کی آپ کو اطلاع دیتا ہوں۔آپ چند روز بیمار رہ کر ہسپتال میں وفات پاگئے۔18 دسمبر 1928ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صوفی عطا محمد صاحب 1910ء میں احمدیت میں داخل ہوئے۔آپ کے نانا شیخ محمد اسماعیل صاحب 313 صحابہ میں سے تھے۔مکرم صوفی صاحب مرحوم و مغفور کو تقریبا سب جماعت جانتی ہے۔کالج میں پروفیسر بھی رہے، اور مختلف رنگ میں دین کی بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور جانفشانی کے ساتھ خدمات سرانجام دیتے رہے۔بہت علمی ذوق تھا اور اللہ کے فضل کے ساتھ دینی علم بڑا گہرا تھا اور ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے تھے جس خدمت پر بھی یہ مامور رہے علمی مشاغل کو اس کے علاوہ ہمیشہ جاری رکھا۔وفات کے وقت تحریک جدید میں وکیل التعلیم تھے۔شیخ عبدالواحد صاحب بہت وسیع تعارف کے حامل تھے۔جماعت میں بہت بھاری تعداد ان کو جانتی تھی۔ان کی اہلیہ امتہ البشیر صاحبہ وفات پاگئی ہیں ان کی بھی نماز جنازہ ہوگی۔مکرم شیخ اعجاز احمد صاحب آف کراچی جو شیخ عطا محمد صاحب کے صاحبزادے تھے جو