خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد 13 76 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 /جنوری 1994ء فیصلہ کرتے ہیں کہ کوئی دعا قبول ہوگی یا نہیں ہوگی یہ دل کی کیفیات ہیں جو اس کی طرف منتقل ہوتی ہیں جس سے مانگا جارہا ہے۔بعض دفعہ مانگنے والے ایسی بے کسی اور بے بسی سے مانگتے ہیں کہ پتھر دل بھی موم ہو جاتے ہیں لیکن اپنی شناخت ضروری ہے اس کے بغیر یہ بجز پیدا نہیں ہوگا اس کے بغیر یہ اضطراب پیدا نہیں ہوگا، جو قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس طرح لحن داؤدی میں ایک اور دعا ہمیں سکھاتے ہیں فرماتے ہیں: ”اے میرے خدا میری فریا دسن کہ میں اکیلا ہوں۔اے میری پناہ ، اے میری سپر۔میری طرف متوجہ ہو کہ میں چھوڑا گیا ہوں۔“ کیلا ہوں میں ایک مضمون بیان ہوا ہے اور چھوڑا گیا ہوں میں دوسرا مضمون بیان ہوا ہے ایک اکیلا ویسے ہی اکیلا ہوتا ہے لیکن ایک دشمنی اور نفرت کے سبب سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔بعض لوگ بعض لوگوں سے اس لئے اجتناب کرتے ہیں کہ ان کو مکروہ دیکھتے ہیں پس حضرت داؤد نے جو یہ مضمون بیان فرمایا ہے وہی ایک اور رنگ میں حضرت داؤد سے زیادہ ایوبی کیفیت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔حضرت ایوب کی دعاؤں میں یہ پتا چلتا ہے کہ آپ ایسے بیمار ہوئے کہ جلد کی بیماری ہوگئی اور یہاں تک الفاظ آتے ہیں کہ گویا آپ کے جسم میں کیڑے پڑ گئے اور لوگ کراہت سے دیکھتے تھے اور منہ پھیرتے چلے جاتے تھے۔انگلستان میں بھی رواج تھا کہ یہاں ایک زمانے میں کوڑھی کے لئے حکم تھا کہ وہ گلے میں گھنٹی ڈال کے پھرے تا کہ کسی کی نظر نہ اس پر پڑ جائے یعنی لوگوں کی نظروں کو اس عذاب سے بچانے کے لئے یا اس کی نحوست سے بچانے کے لئے کوڑھی کا فرض تھا کہ وہ گھنٹی بجاتا پھرے کہ میں اس راہ پہ آ رہا ہوں تم لوگ رستہ چھوڑ دو یا کسی اور طرف چلے جاؤ تو چھوڑا گیا ہوں، میں جو مضمون ہے وہی مضمون ہے۔اکیلا ہوں تو ہی ہے تیرے سوا میرا کوئی نہیں رہا۔کوئی نہیں ہے۔دنیا نے حقارت سے مجھے چھوڑ دیا ہے۔”اے میرے پیارے! اے میرے سب سے پیارے! مجھے اکیلا مت چھوڑ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیری درگاہ میں میری روح سجدہ میں ہے۔66 اکیلا چھوڑنے میں اللہ کی طرف دھیان گیا ہے، سب دنیا چھوڑ گئی تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں یہ نہیں کہتا کہ دنیا میری طرف واپس آ جائے۔میں یہ عرض کرتا ہوں تو مجھے نہ چھوڑ۔اگر تو مل گیا تو پھر سب کچھ مل گیا۔پھر ایک دعا ہے۔