خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 800 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 800

خطبات طاہر جلد 13 800 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 /اکتوبر 1994ء پر خدا تعالیٰ کی تعلیم کا مشورہ مختلف تھا۔جو کچھ بے چاری عورت سے مغربی معاشرہ سلوک کر چکا ہے وہ بہت بھاری ظلم ہے۔اسے کھلونا بنالیا گیا ہے اور ہر کس و ناکس کے جذبات کی تسکین کا ایک ذریعہ بنایا گیا ہے۔تمام معاشرہ اسی مرکزی فلسفے کے گرد تعمیر ہوا ہے اور مزید تعمیر ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس تصور نے گھروں کو برباد کر دیا۔خاوند کا بیوی سے اعتبار اٹھا دیا۔بیوی کا خاوند سے اعتبار اٹھا دیا۔وقتی طور پر چند دن کی لذت یابی نے آئندہ مستقبل کو ایک بھیانک مستقبل میں تبدیل کر دیا۔یہ چند دن کی زندگی کے مزے بالآ خر اس حال کو پہنچتے ہیں جب چاہیں بھی تو مزہ لے نہیں سکتے۔بیماریاں، بڑھاپے اور پھر تنہائی کیونکہ وہ معاشرہ جو اپنی لذت یابی کو اہمیت دیتا ہے وہ غیر معمولی شدت کے ساتھ خود غرضی پیدا کرتا ہے۔پس بچے اس وقت تک ماں باپ سے تعلق رکھتے ہیں جب تک ماں باپ ان کے لئے کچھ کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔جہاں ان کے احسان سے آزاد ہوئے اور وہ موقع آیا کہ ماں باپ احسان کے محتاج ہو جاتے ہیں اس وقت وہ بچے منہ پھیر لیتے ہیں اور بوڑھوں کے گھر ، بیماروں کے گھر جو قو می خزانے پر چلتے ہیں وہ اتنا بھر جاتے ہیں کہ ان میں جگہ باقی نہیں رہتی۔بعض ایسے لوگوں کو پاگل خانوں میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔بعض گلیوں میں کارڈ بورڈ کے گھر بناتے ہوئے شدید سردیوں میں گزارا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان میں جوان بھی ہیں لیکن ایسے بوڑھے بھی ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔اس لئے کہ معاشرہ زہریلا ہے اور اس کی قدر میں جھوٹی ہیں۔ہم نے دنیا کے معاشرے کو سبھی قدریں دینی تھیں۔اگر ہم ہی احساس کمتری کا شکار ہو کر گھروں سے نکلیں گے تو کس طرح ان قدروں کو قائم رکھ سکیں گے۔کس طرح دوسروں کو یہ قدریں عطا کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ قادیان کا زمانہ جس کا میں نے حوالہ دیا ہے وہ آزاد زمانہ تھا۔انسان وہی آزاد ہے جو غیر اللہ کے خوف سے آزاد ہو اور وہ سب لوگ خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر اللہ کے خوف سے آزاد تھے ایک ذرہ کوڑی کی بھی ان کو پرواہ نہیں تھی کہ غیر اللہ کی نظر انہیں کیسے دیکھ رہی ہے۔اپنی نظر خدا کی نظر کے تابع کر چکے تھے اور ہر آن ان کو خدا کی نظر دیکھتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا جو بہت پیارا کلام بار بار پڑھا جاتا ہے اس میں ایک یہ ہے۔حمد و ثنا اسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی (درشین :34)