خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 796 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 796

خطبات طاہر جلد 13 796 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء قریب بھی نہیں پھٹکا۔مجھے افسوس ہے کہ اس پہلو سے نیو یارک وہ نمونہ نہیں دکھا سکا جو اس سے پہلے جماعتیں دکھاتی رہیں۔اگر چہ یہاں کا اجلاس کہہ لیں یا ملن پارٹی تھی وہ کئی پہلوؤں سے پہلی جگہوں کی نسبت زیادہ بہتر طور پر منظم تھی اور بہت محنت کی گئی تھی۔بہت اچھے اچھے لوگوں کو بلایا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ بہت نیک تأثرلے کر لوٹے ہیں لیکن ایک پہلو سے یہ تقریب میرے لئے مسلسل شرمندگی کا موجب رہی کیونکہ میں نے دیکھا کہ بعض مردوں کی میزوں میں احمدی خواتین جو حیا دار خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں، وہ بیٹھی ہوئی تھیں اور بے جھجک ان لوگوں سے باتیں کر رہی تھیں۔شاید ان کے خاوندوں نے کہا ہو کہ ہم اپنے دوستوں میں ذلت محسوس کریں گے اگر تم الگ بیٹھو گی اور وہ کہیں گے کہ تم کیسے پرانے زمانے کے لوگ ہو جومل جل کر ہمارے اندر نہیں بیٹھتے۔شاید اس وجہ سے وہ مجبور ہوئے ہوں کہ عام روز مرہ ان کا یہی دستور تھا اور اب ان میں تبدیلی کرنے کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا تھا۔میری موجودگی ہی ایک جواز تھا لیکن ان کا اثر ان پر اتنا غالب آچکا تھا کہ وہ مجھ سے شرمندہ ہونا منظور کر گئے اور مجھے شرمندہ کرنا قبول کر لیا لیکن اپنے دوستوں سے شرمندہ ہونا انہوں نے منظور نہ کیا۔ایسے موقع پر اگر کثرت کے ساتھ دوسرے مہمان نہ ہوتے تو میں اٹھ کر چلا آتا کیونکہ میری موجودگی کی بہت سی ذمہ داری مجھ پر پیدا ہوتی ہے۔اگر میں ایسی مجلس میں بیٹھا ر ہوں تو آئندہ تاریخ غلط استنباط کرسکتی ہے۔لوگ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں وقت ہم نے خود دیکھا ہے خلیفہ وقت بیٹھا ہوا تھا اور خوب مزے کی مجلس تھی اور احمدی خواتین غیروں کی میزوں میں ساتھ ہی بیٹھی ہوئی ان کے ساتھ گپ شپ مار رہی تھیں تو تمہیں خلیفہ سے زیادہ اسلامی قدروں کا احساس ہے جو آج ہمیں ٹوک رہے ہو۔یہ بات نہایت ہی خطرناک ہے اور میں جماعت نیو یارک کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر یہ مجبوری ہے جس کی وجہ سے مجھ پر لازم ہو گیا ہے کہ تاریخی حقائق کو کھول کر آپ کے سامنے رکھوں۔وہ وقت ایسا تھا ، وہ حالات ایسے تھے کہ میں کھلم کھلا اپنی نا پسندیدگی کا اظہار نہیں کر سکتا تھا اور ان کا گویا زبان حال سے مجھے یہ پیغام تھا کہ اب بتا ئیں آپ کیا کر سکتے ہیں، کوئی سزا دے سکتے ہیں تو دے کے دکھا ئیں۔مگر میں تو سزا نہیں دیا کرتا ایسے موقعوں پر لیکن میں سزا لیا ضرور کرتا ہوں۔پس ان کو میرا جوابی پیغام یہ تھا کہ تم مجھے سزا دے لو جتنی چاہو میں مجبور ہوں، میں نے بعض قدروں کی حفاظت کرنی ہے مگر بعض دوسری قدروں کے تقاضے بھی ہیں جن کے پیش نظر بعض دفعہ انسان بے بس