خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 781

خطبات طاہر جلد 13 781 خطبہ جمعہ فرمودہ 14/اکتوبر 1994ء اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو ہمارا معاہدہ ہوا ہے، یہاں جس Satellite کمپنی سے، معاہدے میں شامل ہے کہ وہ آٹھ Channels ہمیں مہیا کریں گی یعنی ایک وڈیو چینل اور ساتھ اس کی آواز اور ساتھ مختلف آوازیں، اسی پروگرام سے ملحق۔تو یہ بھی پروگرام موجود ہے اور زبانوں کے سکھانے میں اس میں انشاء اللہ یہ بہت مفید رہے گا۔یہ کوشش ہوتی رہی لیکن اپنا مافی الضمیر ان دوستوں کو سمجھانے سے قاصر رہا جن کے سپرد یہ کام کیا تھا۔اچھے تعلیم یافتہ لوگ ہیں محنتیں بھی بہت کی گئیں ذہین ہیں مگر بعض دفعہ ایک انسان کے دل میں جو تصور ہے وہ پوری طرح دوسرے کے دل پر نقش نہیں کر سکتا۔اس لئے جب وہ پروگرام بناتے تھے تو کہیں مجھے تسلی نہیں ہوتی تھی کہیں وہ اٹک جاتے تھے که بغیر کسی دوسری زبان کے یہ باتیں سمجھائی جاہی نہیں سکتیں۔اس لئے پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود یه تجر به شروع کروں لیکن تجربہ ہوتے ہوتے اب یہ مستقل پروگرام بن گیا ہے اس میں میں نے مختلف ممالک کے ایسے لوگ بھی شامل کئے جن کو ایک لفظ بھی اردو کا نہیں آتا تھا اور اردو سکھانے کا پروگرام بنایا۔چینی بھی شامل تھے اور رشین بھی اور ایسے عرب بھی جن کو بالکل اردو نہیں آتی تھی اور گھر کے چھوٹے بچے بھی شامل کر لئے گئے جو وہاں کی پیدائش ہیں اور انگلستان کے بچوں کی اردو بہت کمزور ہے۔پھر ہمارے مکرم عبدالوہاب آدم صاحب افریقہ سے اس میں شامل ہوئے۔اور ان سب کو سمجھایا کہ ہم نے ایک لفظ بھی کسی اور زبان کا استعمال نہیں کرنا یہ آپ کا ذمہ نہیں ہے کہ اردو سیکھیں۔یہ میرا ذمہ ہے کہ اردو سکھاؤں۔بالکل ویسا ہی سلسلہ ہے جیسے ماں باپ اپنے بچوں کو زبان سکھاتے ہیں۔تو قدرت نے ایک ایسا نمونہ ہمارے سامنے پیش فرمایا جس کا تعلق علم اور عقلی معیار سے دور کا بھی نہیں ہے۔ہر جاہل سے جاہل ماں بھی اپنے بچے کو زبان سکھا لیتی ہے اور ہر زبان سکھائی جا سکتی ہے۔دنیا کے پردے پہ کوئی ایسا خطہ نہیں ہے جہاں خدا تعالیٰ کے اس حیرت انگیز نظام سے استفادہ کرتے ہوئے ماں باپ اپنی اولا د کو بغیر کسی دوسری زبان کے سہارے کے اسے کچھ سکھانہ سکیں، زبان نہ سکھا سکیں، یہ ممکن نہیں ہے۔سکھا سکتے ہیں اور دوسری زبان کا سہارا ویسے بھی ممکن نہیں ہے بچہ تو بے چارہ خالی سلیٹ لے کے پیدا ہوتا ہے جتنی مرضی زبانیں بولیں اس کے لئے سارا فارسی، عربی ، فرینچ ہے اس کو تو کچھ پتا نہیں لیکن آپ سکھا لیتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ذمہ داری ماں باپ کی ہو بچے کی نہ ہو بچے کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔وہ اپنے ذہن پر ادنی بھی بوجھ نہیں ڈالتا کہ میں کچھ