خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 72
خطبات طاہر جلد 13 72 خطبه جمعه فرمودہ 28 جنوری 1994ء 66 ہے اس لئے کہ کوئی مددگار نہیں ۔ (زبور باب 22 آیات 1 تا 11) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے داؤدی لحن عطا فرمائی تھی اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام اپنے متعلق داؤد ہونے کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ میں کبھی داؤ بھی ہو جاتا ہوں ۔ آپ نے خدا کے حضور عرض کیا۔ ه کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ( در مشین صفحہ:125) دیکھئے حضرت داؤد کی اس عبارت سے کتنی مشابہ اور کتنی قریب ہے کہ ”میں تو کیڑا ہوں انسان نہیں ۔ آدمیوں میں انگشت نما ہوں اور لوگوں میں حقیر ۔ پھر عرض کرتے ہیں ۔ “ یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار در شین صفحہ:125) تو نے مجھے اپنے فضل سے چنا ہے۔ مجھ میں کون سی خوبی تھی یہ محض تیرا احسان ہے کہ مجھے اس خدمت کے لئے چن لیا ہے۔ پھر اسی مضمون کو دوبارہ ایک اور شعر میں یوں بیان فرماتے ہیں۔ و کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں فضل کا پانی پلا اس آگ برسانے کے دن (در ثمین صفحہ: 96) حضرت داؤد کہتے ہیں جب میں شیر خوار ہی تھا تو نے مجھے تو کل کرنا سکھایا میں پیدائش ہی سے تجھ پر چھوڑا گیا میری ماں کے پیٹ ہی سے تو میرا خدا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عرض کرتے ہیں ۔ و ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار در ثمین صفحہ: 126) اور آجکل کے بد نصیب ملاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر کو تحقیر اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں جو دراصل حضرت داؤد کی لحن ہی میں ایک شعر کہا گیا ہے۔ ریحن داؤدی ہے وہی مضمون ہے جو حضرت داؤد نے بیان کیا اور آپ کبھی کسی ملاں کی آواز میں سن ! واز میں سن لیں کہ کس کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر تمسخر اڑاتے ہیں کس طرح حاضرین کو ابھارتے ہیں اور