خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 771
خطبات طاہر جلد 13 771 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 /اکتوبر 1994ء لائے ہوئے ہیں اور انگلستان سے بھی بڑی بھاری نمائندگی ہے۔پس یہ اجتماع بہت ہی بابرکت ہے ایک خوشی کا دن ہے اور خوشیاں منانے کا دن ہے مگر یہ خوشیاں کیسے منائی جائیں۔یہ ذکر الہی کے ساتھ منائی جاتی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ ان خوشیوں میں صرف آپ ہی نہیں جو حاضر ہیں بلکہ وہ سب بھی شامل ہوں گے جو اس وقت حاضر نہیں۔اگر چہ آج کا جمعہ براہ راست دنیا کے باقی براعظموں تک نہیں پہنچ سکتا لیکن ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ جلد از جلد آج کی کارروائی کی وڈیوز ہم انگلستان پہنچادیں گے جہاں سے انشاء اللہ تعالیٰ تمام دنیا تک ان پروگراموں کی رسائی ہو سکے۔ایک اور برکت جو یہ جمعہ ہمارے لئے لے کر آیا ہے اس کا تعلق انٹر نیشنل مسلم ٹیلی ویژن احمد یہ سے ہے۔اگر چہ اس سے پہلے کینیڈا اور امریکہ کی جماعتوں کے لئے جمعہ کے دن براہ راست خطبہ سننے کا انتظام تو تھا لیکن جس طرح باقی دنیا میں روزانہ کم از کم تین گھنٹے کا پروگرام جاری ہو چکا ہے امریکہ کا براعظم اس سے محروم تھا اس لئے دل میں ایک تمنا تھی بعض دفعہ بے چینی بھی پیدا ہوتی تھی کہ امریکہ کا ملک جو دنیا کا امیر ترین ملک کہلاتا ہے وہ جماعتی معاملات میں کیوں غربت کا نمونہ دکھا رہا ہے لیکن چونکہ مسجد کے چندے کا ایک غیر معمولی فریضہ انہوں نے ادا کرنا تھا اس لئے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ان کو معین طور پر اس بات کی تحریک کروں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ایسے عظیم مخلصین پر مشتمل ہے کہ جتنا بھی بوجھ ڈالا جائے وہ اپنی ذات پر لیتے ہیں لیکن سلسلے کی ضرورتیں پوری کرنے میں کمی نہیں کرتے۔نہ کبھی شکوہ کرتے ہیں کہ ابھی کل تو آپ نے یہ تحریک کی تھی اب آج یہ شروع کر دی ہے۔اس لئے اس خیال سے جس کا ذکر خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فتح اسلام میں فرمایا کہ ایسی مخلصین کی جماعت ہے کہ جب کہتا ہوں یہ نظر رکھتے ہیں میرے منہ پر، میری نگاہوں پر اور جب کہتا ہوں ایسے ایسے مخلصین ہیں جو اپنا سب کچھ پھر قربان کر دیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں کہ انہوں نے مجھے قربانی کے سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے وہ خط آپ کا فتح اسلام کے اندر آپ نے شامل فرمالیا ہے۔اس خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے کیسے مخلصین خدا تعالیٰ نے مجھے عطا کئے ہیں لیکن ساتھ ایک دعا کی کہ چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے ( در تمین فارسی : 117)