خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 764 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 764

خطبات طاہر جلد 13 764 خطبہ جمعہ فرموده 7 /اکتوبر 1994ء وہ سارا خاندان بہت ہی غم زدہ ، یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اب ان کی زندگی میں کوئی خوشی نہیں آئے گی۔ان کو میں نے سمجھایا، ان کو میں نے بتایا کہ دیکھو خدا والوں اور بے خداؤں میں ایک فرق ہوا کرتا ہے اگر تم نے اسی طرح رہنا ہے جس طرح بے خدا لوگ کرتے ہیں تو جو ہاتھ سے جا چکا ہے جتنا مرضی روڈ، پیٹ وہ واپس کبھی نہیں آئے گا۔ناممکن ہے کہ تمہارے نوحے، تمہارے غم ، تمہارے واویلے، تمہارے شکوے کھوئے ہوئے کو واپس لے آئیں لیکن جو ہے جو تمہارا تھا یعنی خدا، وہ ہاتھ سے جاتا رہے گا۔تو کتنی بڑی بے وقوفی ہے کہ ایک ادنی چیز کو چھوڑ کر اس سے اعلیٰ چیز کو بھی انسان ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔ایک چیز ضائع ہوئی تو ہوئی جو اعلیٰ چیز ہے اس کو کیوں گنوائے؟ ایک بے وقوف کا لطیفہ آپ لوگ سنتے ہیں ایک پیالی لے کر تیل لینے گیا پیسے ذرا زیادہ دے بیٹھا اور اس پیالی میں جو تیل کی قیمت کا جتنا تیل آتا تھا اس سے زیادہ تیل خرید لیا جب وہ پیالی بھر گئی تو بیچنے والے نے پوچھا کہ میں باقی تیل کہاں ڈالوں۔تو اس نے پیالی الٹادی کہ پیچھے جو کپی چھوٹی سی ہے اس میں ڈال دو۔اس نے کہا ہیں ہیں تم نے تو اپنا پہلا تیل بھی ضائع کر دیا۔اس نے فوڑا سیدھی کر لی اور جو کپی میں ڈالا تھا وہ بھی گیا۔یہ لطیفہ ہے لیکن ہماری زندگیوں میں صادق آتا ہے۔ہم جب بھی کوئی نقصان اٹھاتے ہیں اور واویلا کرتے ہیں اور صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو دراصل اپنے خدا سے شکوہ کر رہے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے کیا کر دیا گویا ہم سے تیرا سلوک ظالمانہ ہے۔ہمارا تجھ پر گویا یہ حق تھا کہ تو ہم سے ہمیشہ خدمت گاروں کی طرح سلوک کرے اور ہم سے دی ہوئی چیز کبھی واپس نہ لے، یہ جو سلوک ہے یہ کفر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بہت پیارا بیٹا مبارک احمد جب بچپن میں فوت ہوا تو آپ نے شعر لکھے تھے جو مزار پر کندہ کروائے گئے بعد میں، ان میں ایک یہ تھا کہ : ٤ بلانے والا سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر ( در شین: 100) کہ بہت پیارا پاک خو بیٹا تھا لیکن میں یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ جس نے بلایا ہے وہ سب سے زیادہ پیارا تھا۔تو بڑی ہی بے وقوفی کا سودا ہوتا ہے کہ انسان اس چیز کو جواد نی ہے اس کو تو کھو بیٹھا ہے اس کی خاطر ، اس کو لینے کی تمنا میں اعلیٰ کو کھو بیٹھے اور وہ بھی نہ ملے۔اب یہ پیالی والی مثال اور تیل والی مثال اس پر صادق آتی ہے مگر اس سے بہت زیادہ بڑی بے وقوفی ہے۔پیسے دو پیسے تیل کا کیا فرق