خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 70
خطبات طاہر جلد 13 70 10 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء ”اے خدا میرے خدا! میں ستار بجا کر تیری ستائش کروں گا“ ستار بجا کر ستائش کرنا ایک خاص عشق کا مضمون ہے یہ مراد نہیں ہے کہ انبیاء ہاتھوں میں ستار پکڑ کے خدا کی عبادت کیا کرتے تھے یا اس کی ستائش کیا کرتے تھے۔جیسے پنجابی میں کہتے ہیں خدا تعالیٰ سے محبت کی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ ساری رات ناچ کے میں روٹھا یار منا لوں۔وہ یہ نہیں کہ نعوذ بالله من ذالک وہ بزرگ لوگ ساری رات گاتے تھے ناچتے رہتے تھے۔ان کی قبروں پر جاہل تو ناچتے ہیں مگر وہ نہیں ناچا کرتے تھے۔دل ناچا کرتے ہیں۔روح وجد میں آتی ہے، انسان کی روح وہ مرلی بجاتی ہے وہ سر نکالتی ہے وہ آسمانی مرلی ہے آسمانی مرلی کی سر ہے۔پس یہ اشارہ ہے۔میں ستار بجا کر تیری ستائش کروں گا۔اے میری جان تو کیوں گری جاتی ہے تو اندر ہی اندر کیوں بے چین ہے خدا سے امید رکھ کہ وہ میرے چہرے کی رونق اور میرا خدا ہے۔“ کتنا عظیم کلام ہے اور اندر ہی اندر جان کھلی جاتی ہے۔وہ نبی جن کا مرتبہ یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ان کی ایک دعا کو پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کا تو یہ مرتبہ ہے یہ حال ہے اور چھوٹے چھوٹے نیکیاں کرنے والے لوگ وہ نیکیاں بھی اللہ بہتر جانتا ہے کہ نیکیاں تھیں بھی کہ نہیں، خودستائشی بھی ہو سکتی ہیں وہ تھوڑی سی نیکی پر تکبر سے دیکھیں کیسی کیسی چھلانگیں مارتے ہیں اور یہاں یہ کیفیت ہے کہ اندر ہی اندر میں کیوں بے چین ہوں، جان گھلی جاتی ہے اس غم سے کہ کہیں میرے خدا کی نظر نہ مجھ سے پھر جائے۔”خدا سے امید رکھ کہ وہ میرے چہرے کی رونق اور میرا خدا ہے میں پھر اس کی ستائش کروں گا۔پھر عرض کرتے ہیں: ”اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا تو میری مدد اور میرے نالہ فریاد سے کیوں دور رہتا ہے۔اے میرے خدا میں دن کو پکارتا ہوں پر تو جواب نہیں دیتا اور رات کو بھی اور خاموش نہیں ہوتا۔لیکن تو قدوس ہے تو جو اسرائیل کی حمد وثنا پر تخت نشین ہے۔“ جب میں نے یہ بیان کیا کہ اصل عرش جس پر خدا تخت نشین ہوتا ہے رونق افروز ہوتا ہے وہ اس کے پاک بندوں کی حمدوثنا ہے ورنہ کوئی ظاہری عرش دنیا میں ایسا نہیں ہے۔فرشتے بھی جو اس کا