خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 752
خطبات طاہر جلد 13 752 خطبه جمعه فرموده 7 اکتوبر 1994ء قوموں میں تہذیب کے نام پر جاری ہیں بلکہ وہ تعلقات مراد ہیں جو ایک باخدا سب سے بڑے با خدا، برگزیده انسان حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے اپنے اللہ سے تعلق کے نتیجہ میں سیکھے۔اور خدا کی محبت کے نتیجے میں خدا کی مخلوق سے جو طبعی محبت پیدا ہوئی اور اس محبت کے جو تقاضے تھے وہ آپ نے نہ صرف خودا دا فرمائے بلکہ ہمیں بھی سکھایا کہ اگر تم باخدا ہو تو یہ کچھ کرنا ہو گا آپس کے تعلقات کو اس طرح درست کرنا ہوگا۔ان تعلقات کی کمی بسا اوقات جماعت میں بھی نظر آتی ہے اور اس انسانی تعلق میں رخنوں کی وجہ سے مجھے ان کی عبادت میں رخنے دکھائی دینے لگتے ہیں۔محض یہ کہنا کہ یہ انسانی تعلقات کی خرابیاں ہیں درست نہیں ہے۔جس کے تعلقات اللہ سے درست ہوں اس کے انسانی تعلقات ہموار ہو جاتے ہیں اور ان میں بہت کم رخنے دکھائی دیتے ہیں بعض دفعہ رخنے دکھائی دیتے ہیں تو دیکھنے والے کی آنکھ کا قصور ہوتا ہے اور اس کی ٹیرھی نظر ایک باخدا انسان کے انسانی تعلقات کو ٹیڑھا صلى الله دیکھنے لگتی ہے۔جیسا کہ بعض اندھے اور دشمن اسلام آنحضرت ﷺ کے انسانی تعلقات پر بھی حرف رکھنے لگتے ہیں۔پس مراد یہ نہیں کہ ٹیڑھی آنکھوں والوں کو بھی یہ تعلقات درست دکھائی دیتے ہیں۔عام سرسری نظر میں انسان جو تقویٰ کے اعلیٰ مدارج نہ بھی طے کر سکا ہوا گر معمولی انصاف کی نظر سے بھی دیکھے تو اسے خداوالوں کے تعلقات میں کوئی رخنہ دکھائی نہیں دے گا۔پس اس پہلو سے میں جماعت کی تربیت کی کوشش کر رہا ہوں کیونکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب تک ہم بحیثیت احمدی مسلم اپنے اندرونی تعلقات کو مثالی نہ بنالیں اس وقت تک ہم بنی نوع انسان پر اسلام کے غلبے کے لئے تیار نہیں ہیں۔وہ اسلام کا غلبہ جو محض نظریاتی غلبہ ہو، جو کوئی اخلاقی انقلاب بر پا نہ کر سکے، جو کوئی روحانی تبدیلی پیدا نہ کر سکے وہ بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہے اور کبھی حضور اکرم ﷺ نے ایسے غلبے کی کوئی پیش گوئی نہیں فرمائی لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ فرمایا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ تمام انسانوں پر اس مذہب کو غالب فرما دے گا۔فرمایا محمد رسول اللہ کو تمام ادیان پر غالب فرما دے گا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے اخلاق، محمد رسول اللہ ﷺ کا رہن سہن ، آپ کا بود و باش، آپ کی طرز معاشرت، آپ کے بنی نوع انسان سے تعلقات، آپ کے خدا تعالیٰ سے تعلقات ہر دوسرے دین پر غالب آجائیں گے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ احمدی ایک ایسا خوب صورت آسمانی معاشرہ قائم کریں جس میں وہ جہاں جہاں بھی ہوں دنیا کو جزیروں کی طرح دکھائی