خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد 13 69 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء وکالت کر اور دغا باز اور بے انصاف آدمی سے مجھے چھڑا کیونکہ تو ہی میری قوت کا خدا ہے تو نے مجھے کیوں ترک کر دیا۔میں دشمن کے ظلم کے سبب سے کیوں 66 ماتم کرتا پھرتا ہوں۔“ آپ جانتے ہیں، تمام انبیاء جانتے ہیں کہ اللہ نے انہیں چھوڑا نہیں ہے لیکن ایک نہایت دردناک بجز کی کیفیت ہے جس کا بیان ہے۔پس مرادی تھی تو مجھے چھوڑ بھی دے تو تیرا حق ہے۔پس بعض دفعہ محبوب کی آنکھوں میں ذرا بھی تغافل پیدا ہو تو محبت کرنے والا انسان یہی سوچتا ہے کہ مجھے چھوڑ دیا گیا ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ خدا نے ترک کر دیا تھا دونوں باتیں ہیں اس میں ایک عجز کا اظہار کہ اے میرے مولا تو ترک کر دے تو کوئی شکوہ نہیں یعنی میرا حق نہیں ہے کہ تو مجھے یا در کھے اور دوسرا یہ مضمون کہ اے خدا میں جب بھی تیری طرف سے محبت کے آثار میں معمولی سی کمی دیکھتا ہوں بعض دفعہ ایک خاص وجد کی کیفیت طاری ہوتی ہے بعض دفعہ انسان پر ایک قبض کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور ہر حال میں خدا ایک ہی طرح ظاہر نہیں ہوتا۔پس وہ کیفیات جن میں کچھ محسوس ہو کہ شاید میرے آقا نے مجھ سے کوئی ایسی بات دیکھی ہے وہ پہلی سی بات اس کے پیار میں نہیں رہی ، ایسے وقت کی یہ دعا ہوتی ہے کہ اے خدا تو نے مجھے کیوں ترک کر دیا جیسے کہا جاتا ہے۔یک عشق و ہزار بدگما نیست ایک عشق اور ہزار بدگمانیاں اس سے پیدا ہو جاتی ہیں۔پس محبوب کے متعلق ہمیشہ یہ فکر کہ کہیں نظریں نہ پھیر لے اس سے پھر دعا کے یہ مضمون پیدا ہوتے ہیں جو آپ سن رہے ہیں۔کیونکہ تو ہی میری قوت کا خدا ہے تو نے مجھے کیوں ترک کر دیا میں دشمن کے ظلم کے سبب سے کیوں ماتم کرتا پھروں ، تو میرا نہیں ہے کہ میں دشمن کے ظلم کے سبب سے ماتم کرتا پھروں؟ اپنی نور اور سچائی کو بھیج۔وہی میری راہبری کریں وہی مجھے تیرے کو ہ مقدس اور تیرے مسکنوں تک پہنچا ئیں۔تب میں خدا کے مذیح کے پاس جاؤں گا خدا کے حضور جو میری کمال خوشی ہے۔“ وہی مضمون ہے ”ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں تو ہر خوشی کا کمال اللہ کی ذات میں ہے اور اس سے تعلق میں ہے۔