خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 68

خطبات طاہر جلد 13 68 خطبه جمعه فرمودہ 28 جنوری 1994ء کھینچا ہے۔ نے میرے ماتم کو ناچ سے بدل دیا۔“ یعنی ایک طرف گریہ وزاری کرتے ہیں تو خدا کی طرف سے خوشخبری پاتے ہیں اور کیسا پیارا نقشہ تو نے میرے ماتم کو ناچ سے بدل دیا تو نے میرا ٹاٹ اتار ڈالا اور مجھے خوشی سے کمر بستہ کیا تا کہ میری روح تیری مدح سرائی کرے اور چپ نہ رہے۔ اے خداوند میر۔ خداوند میرے خدا میں ہمیشہ تیرا ہ تیرا شکر کرتا رہوں گا ۔“ علیہ ہے دیکھیں اصلى الله پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ذکر الہی کے تعلق میں جس نبی کی مثال چنی ہے کس شان کے ساتھ اس پر چسپاں ہوتی ہے۔ آنحضرت میال کے کلام کو سرسری نظر سے نہ دیکھیں اس میں گہرے حکمتوں کے راز ہوتے ہیں یہ فوراً دل میں خیال اٹھنا چاہئے کہ داؤد کو کیوں چن لیا بڑے بڑے پاک باز اور بڑے بڑے بلند مرتبہ نبی اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور قرآن نے ان کا بڑی شان سے ذکر فرمایا تو محمد رسول اللہ نے راؤڈ کو کیوں چنا ہے صرف اس لئے کہ حضرت داؤد کو یہ خاص مرتبہ حاصل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی محبت کے گن گانے کا سلیقہ خود عطا فرمایا تھا اور اس دعا کے نتیجے میں جس دعا کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لئے محفوظ فرمایا اور آئندہ ہمیں پڑھنے کی ہدایت کی۔ الله یہ حدیث قدسی ہے کیونکہ کوئی نبی بھی اپنی طرف سے کلام نہیں کرتا سوائے خدا کے اشارے کے۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ اس معاملے میں سب نبیوں سے ممتاز ہیں۔ کوئی ایک ادنی سا کلمہ بھی آپ نے اپنے دل سے اپنی جان سے نہیں کہا وہی کہا جو اللہ چاہتا تھا کہ آپ کہیں اور جو اللہ کا منشاء تھا۔ پس بسا اوقات قرآن کے علاوہ بھی آپ پر وحی نازل ہوئی بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ گویا آپ ہمیشہ ایک وحی کی کیفیت میں زندہ رہے اور آپ کی رویا بھی وہی تھی ۔ پس یہ جو باتیں ہیں یہ وحی کے سوا نصیب نہیں ہو سکتیں۔ پس حضرت داؤد کے ذکر کو آپ نے جو چنا ہے اور خاص معین دعا کے ساتھ۔ یہ دعا آسمان سے آپ پر نازل فرمائی گئی اور اس حکمت کے پیش نظر کہ لوگ حضرت داؤد کی مناجات کی طرف توجہ کریں اور ان سے استفادہ کریں۔ عرض کرتے ہیں : ”اے خدا میرا انصاف کر اور بے دین قوم کے مقابلے میں میری