خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد 13 731 خطبه جمعه فرمودہ 30 ستمبر 1994ء صلى الله تنبیہ کے لئے بھیجا ہے تا کہ ان قوموں کو ان کے بد انجام سے ڈرائے ۔ اگر آنحضرت ﷺ کے علي دل میں عیسائیت یا غیر مذاہب کے خلاف کسی قسم کی نفرت کا شائبہ بھی ہوتا تو اس خبر کو آپ خوشی سے سنتے اور آپ کا رد عمل یہ ہوتا کہ الحمد للہ میر - د میرے خدا نے میرے دشمنوں دشمنوں کی شکست اور قطعی ہلاکت کی خبر دی ہے ۔ اس کے برعکس ان آیات کے نزول کے وقت آپ کے دل کی جو گہرے غم کی کیفیت تھی اللہ تعالیٰ نے اس پر نظر فرمائی اور مضمون کو روک کر پہلے صلى الله آنحضرت ﷺ کے دل کی کیفیت کا ذکر فرما کر آپ کو تسلی دی اور یہ اظہار یوں فرمایا۔ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا کہ اے محمد اس بد انجام کی خبر سے کیا تو اتنا غم محسوس کرے گا کہ اپنی جان کو ہلاک کرلے گا ۔ ایک حیرت انگیز بات ہے جس کا دوسرے صحیفوں میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی قوم کی اکت کی خبر دی جا رہی ہے جو شرک میں آگے بڑھ گئی اور جس کے بد انجام کی تفصیل حضرت محمد رسول اللہ کے سامنے بیان کی جا رہی ہے۔ ابھی وہ تفصیل پوری طرح واضح نہیں ہوئی مگر آنحضرت ما کا دل کسی خوشی کے سمندر میں غوطے نہیں لگا تا بلکہ غم کے گہرے سمندر میں ڈوب جاتا ہے اور مضمون کو روک کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندے کیا تو ان کی ہلاکت کی خبر سے جو تیری باتوں پر ایمان نہیں لائیں گے اور بد انجام کو پہنچیں گے اپنے آپ کو غم سے ہلاک کر لے گا ، ایسانہ کر اور پھر یہ کہہ کر ایک اور تسکین بخش مضمون شروع ہو جاتا ہے اور وہ ہے ان قوموں کے نیک آغاز کا ذکر ۔ فرمایا یہ ہمیشہ سے بد نہیں ہیں، ہمیشہ سے بھٹکے ہوئے نہیں ہیں آغاز میں ان میں ایسے لوگ تھے جنہوں نے توحید کی خاطر عظیم الشان قربانیاں کی ہیں اور وہ اصحاب کہف میں انہوں نے سطح زمین کی زندگی کو ترک کر کے غاروں میں پناہ لینے کو زیادہ پسند کر لیا کیونکہ سطح زمین پر شرک غالب تھا اور وہ اپنی توحید کو بچانا چاہتے تھے اس لئے توحید کے نتیجے میں ان سے جو دشمنیاں مول لی گئیں ان کے لئے زمین کی سطح پر بسنا بسا اوقات ناممکن ہو گیا اور وہ اپنے ایمان اور توحید کی حفاظت کی خاطر غاروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے اور ان کا بہت ہی محبت اور پیار کے ساتھ ذکر ہے جو اس کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ واضح فرما دیا گیا ہے کہ سطح زمین پر جو نعمتیں دی گئی ہیں وہ آزمائش کے لئے ہیں اور وہ لوگ جو شرک کے باوجود نعمتوں سے نوازے جارہے ہیں ان کے متعلق کوئی دھوکہ نہ