خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 730 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 730

خطبات طاہر جلد 13 730 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء یہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورۃ الکھف کے آغاز سے لی گئی ہیں اور یہ سورۃ کہف تمام تر عیسائیت کے آغاز ، اس کے عروج اور اس کے زوال سے تعلق رکھتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی امی نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر تمہیں دجال کا خوف ہو اور دجال سے بچنے کے لئے کچھ کرنا چاہو تو سونے سے پہلے سورہ کہف کی پہلی دس آیات اور آخری دس آیات کی تلاوت کیا کرو۔ان آیات کا انتخاب میں نے آج اس لئے کیا ہے کہ ان کا تعلق اس گہرے فکر کے اظہار سے ہے جس سے ان آیات کا آغاز ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کا سفر توحید سے شروع ہوا جب انہوں نے خدا کا بیٹا بنا لیا اور خدا کا ایک شریک ٹھہرالیا تو پھر ان کا کیا انجام ہوا، اور یہ سفر پھر کن کن خطرناک نتائج پر منتج ہوا۔یہ ایک تفصیلی مضمون ہے اور سورہ کہف کا تعلق جیسا کہ آغاز مسیحیت سے ہے ویسا ہی آج کے زمانے سے بھی ہے اور آج کے زمانے کے بعد آنے والی خبروں کا بھی اس سورۃ میں ذکر ہے۔لیکن اس تفصیلی مضمون کو چھیڑے بغیر میں مختصراً آپ کو اس کے مضمون کے خلاصے سے آگاہ کرتا ہوں کیونکہ اس کو سمجھنے کے بعد آپ میں ان قوموں میں تبلیغ کا ایک نیا جذ بہ پیدا ہوگا اور جس طرح اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے اس کے مطابق ہم ان قوموں کو پیغام پہنچانے کے مستحق ٹھہریں گے۔سب سے پہلی بات یہ بیان ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ایک خدا نے اپنے بندے محمد رسول اللہ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے تا کہ ان قوموں کو ڈرائے جنہوں نے خدا کا بیٹا بنا لیا ہے اور اس کے بد انجام سے ان کو آگاہ کرے اور ان مومنین کو خوشخبری دے جو حق پر قائم رہتے ہیں اور ایک خدا کی ذات سے وابستہ رہتے ہیں، کہ ان کے لئے ایک لامتناہی اجر ہے اور ان کو کسی غم اور فکر کی ضرورت نہیں۔لیکن وہ قو میں جو تو حید سے ہٹ گئیں ہیں اور کسی معنی میں بھی حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو واقعہ خدا کا بیٹا سمجھ رہی ہیں اور اس کی صفات میں شریک سمجھ رہی ہیں۔یہ توحید سے تعلق رکھنے والی سورۃ محمد پر نازل ہو رہی ہے، اس وجہ سے تا کہ ان کو سمجھائے کہ ان کی غلطی ہے۔تو قرآن کریم نے اس سورۃ میں اس مضمون کو اس طرح اٹھایا ہے کہ خدا تعالیٰ کا بیٹا بنانے والوں کو متنبہ کرنے کی غرض سے محمد رسول اللہ کو بھیجا گیا ہے اور اس کے بعد اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کے گہرے غم کا ذکر فرماتا ہے۔فرماتا ہے ، تجھے ہم نے