خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 723
خطبات طاہر جلد 13 723 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1994ء دنوں میں یہ رواج تھا شاید اب بھی ہو کہ جس گھر میں ٹیلی ویژن پرانا ہو گیا کوئی صوفہ سیٹ بدلا کر نیا صوفہ سیٹ لینا ہو تو وہ اپنے پرانے ٹیلی ویژن اور پرانے صوفہ سیٹ کو اپنے گھر کے باہر لان میں رکھ دیا کرتے تھے اور مطلب تھا کہ جس کو ضرورت ہے وہ اٹھا کر لے جائے چنانچہ بعض پاکستانیوں نے نیویارک میں بھی اور واشنگٹن میں بھی مجھے بتایا کہ ہمیں تو خریدنے کی ضرورت ہی کچھ نہیں ہم چکر لگاتے رہتے ہیں جہاں باہر کوئی اچھا بھلا استعمال کے قابل صوفہ سیٹ نظر آئے یا ٹیلی ویژن دکھائی دے وہی لے لیتے ہیں۔تو وہاں جو فقیر ہے وہ حسن بن جاتا ہے کیونکہ جن لوگوں نے یہ سامان پھینکنا ہے اگر وہ Haulage کمپنی کو بلائیں اور ان کے ذریعہ پیسے دے کر سامان کو کسی جگہ پھینکوا ئیں تو کافی خرچ آئے گا اس کو اخلاق حسنہ کون کہتا ہے۔ایک ایسے گھر میں فقیر آیا ہے جہاں کھانے کی بہتات ہے، بچا ہوا کھانا، بچی ہوئی روٹی اس نے اس کو کرنا کیا ہے تو فقیر آیا تو چلو گلے سے بلا اتری اور اسی مضمون کو ہمارے پنجابی میں یوں بیان کرتے ہیں کہ یار آن تے گدوداں مکان کہ ہم تو انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ وہ بیہودہ کھانے اور فضول چیزیں جو کسی کام کی نہیں ہمارے یار آئیں تو ان کو کھلائیں اور یہ مصیبتیں گلے سے اتریں۔مہمان نواز بھی کہلائیں گے اور یہ فضول بچے ہوئے گند، یہ بھی ہمارے گلے سے اتریں گے اور اس مصیبت سے چھٹکارا نصیب ہو گا۔تو یہ اخلاق حسنہ نہیں ہیں۔قرآن کریم نے جو اخلاق کی تعریف فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھوک ایسی چمک جائے ایک گھر میں نہیں دو گھروں میں نہیں قوم کی قوم بھوکی ہو اس وقت جو لوگ ان کی مدد کے لئے نہیں نکلتے وہ اخلاق حسنہ پر فائز نہیں ہیں ان کا خدا تعالیٰ سے کوئی حقیقی تعلق نہیں اور جو تعلق والے ہیں ان کے متعلق فرمایا وَ يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر: 10)۔ان کا تو یہ حال ہے کہ خواہ کیسی ہی تنگی محسوس کر رہے ہوں اپنے نفس پر دوسرے ضرورت مندوں کو تر جیح دے دیتے ہیں اور بعض دفعہ پتا بھی نہیں لگنے دیتے کہ خود کتنے ضرورت مند تھے۔اس لئے کہ بھائی کے دل پر بوجھ نہ پڑے، ایسے واقعات سے بھی آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کی تاریخ مزین ہے کہ سخت ضرورت کے وقت اپنے بھائی کے لئے قربانی کرنا اور پھر یہ کوشش کرنا کہ اس کو پتا نہ چلے کہ ہمیں بھی ضرورت تھی۔