خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 721 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 721

خطبات طاہر جلد 13 721 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1994ء کہیں گزرا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس سے مطلع فرمایا ہے۔پس یہ ہے خلق حسنہ جس میں کوئی جھول نہیں پڑتا۔کوئی لالچ اس پر اثر انداز نہیں ہوا کرتی اور ایسے شخص کی سچائی کو اللہ تعالیٰ خود ظاہر فرما دیتا ہے۔پس آزمائش کے وقت اخلاق حسنہ اور چمک جاتے ہیں اور نمایاں ہو کر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ایک واقعہ اور ملتا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ ایک ایسی مسلمان عورت سے آپ نے کچھ نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا جو اپنے بھائی کے حسن خلق کے گیت گایا کرتی تھی اور ایسے گیت گاتی تھی کہ اس کی شہرت تمام عرب میں پھیلتی چلی گئی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن ان سے پوچھا کہ بی بی یہ کیا بات ہے کہ اور بہت سے موضوع ہیں تمہارا بھائی آخر وہ کیا چیز تھا جس کے حق میں تم نے ایسے ایسے گیت بنے ہیں کہ سارے عرب میں اس کی شہرت ہو گئی ہے تو اس نے کہا کہ یا امیر المومنین وہ ایک ایسا بھائی تھا کہ جس کی مثال دنیا میں ڈھونڈنی مشکل ہے اور اب میں بتاتی ہوں کہ کیوں میں اس کے حسن خلق کے گیت گاتی ہوں۔کہتی ہیں جب میرے باپ کی وفات ہوئی تو اس بھائی نے یہ بھی نہ دیکھا کہ میں عورت ہوں میرا حصہ کم ہوگا یا عرب کے رواج کے مطابق ہوگا ہی نہیں۔اس نے اپنی جائیداد کو عین نصف تقسیم کیا۔آدھا مجھے دے دیا اور آدھا اپنے لئے رکھا۔میرا خاوند عیاش تھا اور غیر ذمہ دار تھا وہ چند سالوں میں وہ جائیداد بیچ کے کھا گیا۔میرا بھائی سمجھ دار تھا اور ذمہ دار تھا اس نے اپنے خاندان کو ، اپنے اہل وعیال کو اچھی طرح پالا لیکن ساتھ ہی تجارت میں مال لگا کر بہت فائدہ اٹھایا۔یہاں تک کہ اس کے علم میں آیا کہ میں اب بالکل کنگال ہو چکی ہوں جس طرح تقسیم جائیداد سے پہلے کا حال تھا اسی حال تک پہنچ چکی ہوں تو وہ آیا اور اس نے پھر اپنی جائیداد کو نصف کیا۔آدھا مجھے دیا اور آدھا اپنے لئے اور اپنے اہل وعیال کے لئے رکھ لیا اور اس نے یہ بیان کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں کہ پھر ایسا وقت آیا کہ وہی بات دوبارہ ہوئی۔میرے خاوند نے وہ سب کچھ بھی بیچ کھایا اور اس کو کوئی حیا نہ آئی کہ میری بیوی کا بھائی کتنے اعلیٰ اخلاق کا ہے اس نے کس محنت سے کمایا ہوا مال میری بیوی کی بھلائی کے لئے دیا ہے وہ سب کچھ بیچ کے یا اپنے عیش و عشرت میں لگا کر ضائع کر بیٹھا اور یہ پھر کنگال ہوگئی۔پھر اس بھائی نے ویسا ہی کیا۔اب روایت تو یہ بیان کرتی ہے کہ سات بار ایسا ہوا اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ سات بار ہوا تھا یا چند بار ہوا تھا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دو تین بار بھی ایسا ہوا ہو تو بہت عظیم اخلاق