خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 703 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 703

خطبات طاہر جلد 13 703 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء حملے ہوتے تھے کہ ساری دنیا کی بڑی سے بڑی سلطنتیں اس کے تصور سے بھی کانپتی تھیں کہ یہ لوگ حملہ آور ہوکر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور کوئی طاقت ان کو روک نہیں سکتی تھی۔ایسے ہی ایک حملے کے دوران کسی بغداد کے بادشاہ نے ایک بزرگ ملہم کو دعا کے لئے کہلا کے بھجوایا اور کہا کہ خدا کے لئے ہمارے پاس اب کوئی دفاع نہیں رہا۔معلوم ہوا ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ وہ حملہ آور بغداد کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کوئی ہمارے پاس طاقت نہیں ہے کہ ہم ان کو روک سکیں۔تو آپ دعا کریں۔دعا کے ہتھیاروں کے سوا اور کوئی ہتھیار نہیں۔دوسرے دن صبح جب بادشاہ نے اس بزرگ کی خدمت میں جواب کے لئے آدمی بھجوایا تو اس نے کہا کہ ساری رات میں دعا کرتا رہا اور ساری رات مجھے یہ الہام ہوتا رہا ہے کہ یا ایها الكفار اقتلوا الفجار يا ايها الكفار اقتلوا الفجار کہ اے کا فرو! میں خدا تمہیں حکم دیتا ہوں کہ ان فاجروں کو قتل کرو اور یہ الہام حیرت انگیز دردناک شان کے ساتھ پورا ہوا ہے کیونکہ اس بغداد کے حملے کا نمایاں نشان قتل عام ہے جو تاریخ میں شاذ کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ایک جوھا جو مسخرہ تھاوہ بچ گیا تھا اس حملے میں اور شاید کوئی اتفاق سے قسمت سے بچا ہو ورنہ بادشاہ کا حکم تھا جس پر پوری دیانتداری سے اس کی فوج نے عمل کیا کہ اس شہر کے ہر باشندے کو تہہ تیغ کر دو۔نہ مرد بچے ، نہ عورت بچے، نہ بوڑھا، نہ بچہ، نہ نوجوان، تمام کے تمام قتل کئے جائیں اور مؤرخ یہ لکھتے ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ تمام شہر میں ہر مردوزن، ہر بوڑھے بچے کو یکساں قتل کیا گیا اور پورا شہر ویران ہو گیا۔کہتے ہیں ہفتوں بعد تک دجلہ کا رنگ ان کے خون سے سرخ رہا۔پس جو الہام الہی تھا وہ دیکھیں کس شان کے ساتھ پورا ہوا ہے۔اگر چہ یہ دردناک شان تھی لیکن تھی شان ہی کیونکہ خدا کے کلام کی شان تھی جس نے اس حملے کو ایک حیرت انگیز قتل عام کے حملے میں تبدیل کر دیا اور حکم کس کو مل رہا ہے کفار کو۔عام طور تو پر انسان یہ سمجھتا ہے کہ حد چاہئے سزا میں عقوبت کے واسطے آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں (دیوان غالب : 176) مگر جب یہ خدا کے ماننے والے مشرکوں سے بھی زیادہ بد بخت ہو چکے ہوں اور وہ بے حیائی جس کی مشرک جرات نہ کریں اس کے یہ موحد اس پر جرات کرنے لگیں تو پھر یہی تقدیر ہے جو ایسی قوم کے او پر صادق آسکتی ہے کہ یا ایھا الكفار اقتلوا الفجار کہ اے کفار اب وقت آ گیا ہے کہ ان فجار کو قتل کرو۔