خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 694
خطبات طاہر جلد 13 694 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء ہے ہر وہ حربہ استعمال کر دیکھیں محمد رسول اللہ کے بچے غلاموں سے یہ بد بخت مخلوق مسجد کا حق نہیں چھین سکتی۔ایک مسجد چھینیں گے تو خدا کی دوسری زمین ان کے لئے مسجد بن جائے گی۔جہاں عبادت کریں گے وہی خدا کے حضور سب سے اعلیٰ مسجد ، سب سے زیادہ مقدس مسجد کہلائے گی۔تو جن محمد ﷺ کے غلاموں سے یہ وعدہ ہے ان کو بے وجہ ان باتوں پر غم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور اللہ تعالیٰ ساتھ ساتھ خوش خبریاں بھی دیتا ہے جن سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جہاں ایک نوعیت کی غم کی خبر آئے وہاں اس کے برعکس نوعیت کی بے حد خوشی کی خبر بھی آتی ہے۔چنانچہ یہ آپ حسن اتفاق کہیں، میں تو تقدیر الہی سمجھتا ہوں کہ ایک طرف تو موحد کہلانے والوں کا مسجد کا انہدام کا واقعہ ہورہا تھا اور پاکستان سے مجھے یہ فیکس موصول ہوئی تھی کہ اس وقت یہ واقعہ ہورہا ہے دوسری طرف ایک افریقن ملک غانا کی یہ رپورٹ میں پڑھ رہا تھا جس میں لکھا تھا کہ اللہ کا بڑا احسان ہے ہمارے لئے ایک خوشیوں کا خاص دن ہے کہ ہم نے جس مشرک علاقے میں تبلیغ کی تھی جہاں کوئی ایک بھی موحد نہیں تھا وہاں ہزار ہا لوگ جو مسلمان ہو کر جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں وہاں ایک بہت عظیم مسجد کی بنیاد ڈالی گئی ہے اور ہم اس مسجد کی تعمیر سے، کانوں تک راضی ، جسے کہا جاتا ہے، سرتا پا اللہ کی تقدیر سے راضی ہیں اور یہ ایسی عظیم الشان خوش خبری ہے جو ہم آپ کو دینا چاہتے ہیں اور سارا علاقہ اس کی تعمیر میں خدمت کر رہا ہے۔وہ جو کل تک مشرک تھے وہ آج خدائے واحد کی عبادت کے لئے ایک بڑی مسجد کے لئے محنت کر رہے ہیں، وقار عمل کر رہے ہیں، ایک عجیب نظارہ دکھائی دے رہا ہے۔تو کون ہے جو اس کو اتفاق کہے؟ مجھے تو یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر نے ہمارے دلوں کو سہارا دینے کے لئے ، ڈھارس بندھانے کے لئے ، یہ بتانے کے لئے کہ تمہارا خدا میں ہوں۔دنیا کی کوئی حکومت تمہیں میرے فضلوں سے عاری نہیں کر سکتی ، میرے فضلوں سے محروم نہیں کرسکتی ، یہ عجیب توارد کر کے دکھا دیا کہ ایک طرف وہ بد بختوں کی خبر آ رہی تھی دوسری طرف یہ خبر مل رہی تھی۔جہاں تک اس مخلوق کا تعلق ہے۔میں اسے ایک مخلوق کہتا ہوں کیونکہ ہر چیز بہر حال خلقت سے تو تعلق رکھتی ہے۔اگر وہ بگڑ جائے اور منحوس ہو جائے تو اس کے لئے قرآن کریم فرماتا ہے مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ( الفلق : 3) - اب مَا خَلَقَ کی ضمیر تو اللہ ہی کی طرف جارہی ہے، پیدا کرنے والا تو بہر حال وہ ہے۔مگر جوشر بنتا ہے۔وہ لوگ خود بناتے ہیں، خدا نے ایک شریف مخلوق ، اعلیٰ