خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 693
خطبات طاہر جلد 13 693 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء میں کوئی نماز پڑھنے لگے تو اس پر ان کو طیش آئے ، نمازیوں کی راہیں روکیں اور پھر مسجدوں کو ویران کر دیں، سَعَى فِي خَرَابِهَا تو ایسی سعی پہلے بھی کی جاچکی ہے۔مردان میں بھی ہوئی ، را ہوالی میں بھی ہوئی، گجرات میں بھی ہوئی۔بہت سی پہلے کوششیں ہو چکی ہیں۔جھنگ میں بھی احمدی مساجد جلائی گئیں مگر یہ ایک خاص انداز کی ایک نمایاں کوشش ہے جو ان سب سے ممتاز ہے کیونکہ پاکستان جس کو دولت اسلامیہ کہا جاتا ہے۔خداداد مملکت پاکستان اس مملکت کی راجدہانی میں حکومت کے سائے تلے اس کے اشاروں کے تابع ، اس کی نگرانی میں با قاعدہ وہاں کی بلدیہ نے یہ کام کروایا ہے۔ہندوستان کے واقعہ اور اس میں ایک یہ بڑا فرق ہے۔وہاں کی مشرک عدالتوں نے آخر وقت تک تمام ہندو دباؤ کے باوجود یہ اپنا انصاف کا فیصلہ برقرار رکھا کہ کسی قوم کوکسی کی عبادت گاہ منہدم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔یہاں مومنانہ عدالت نے ان ظالموں کو جن کو رسول اللہ اللہ نے فرمایا کہ شر من تحت اديم السماء ان کے دباؤ کے نیچے آ کر یہ پاکستان کی مومنانہ عدالتوں کا فیصلہ ہے اور اس کے پیچھے سازشیں ہوئی ہیں، کس حد تک حکومت دخل دیتی رہی یا دے سکتی ہے؟ یہ باتیں تو ہمیں کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جب حکومت اترتی ہے تو اپوزیشن بن جاتی ہے۔جب اپوزیشن حکومت میں آتی ہے تو حکومت ہو جاتی ہے۔دونوں ان ادلتے بدلتے حالات میں حکومت پر یہی الزام لگاتے ہیں کہ عدالتوں کو حکم دے کر، عدالتوں سے رابطہ کر کے، ان سے سازش کر کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ابھی نواز شریف صاحب کا ایک بیان شائع ہوا ہے آج ہی کے اخبار میں کہ حکومت عدالت سے ساز باز کر کے کسی عدالت کو اس بات پر مقرر کر چکی ہے کہ نواز شریف صاحب کو ضرور پھنسایا جائے۔تو جب یہ آپس میں ایک دوسرے پر یہ الزام تراشیاں کر رہے ہیں تو یہ ذمہ دار ہیں ثبوت پیش کرنے کے۔ہمیں اس جھگڑے میں ملوث ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں ہم ایک فریق نہیں رہے۔یہاں ایک فریق خدا ہے اور دوسرا فریق بندوں کا ہے تو جہاں ہم فریق نہیں ہیں وہاں ہم بے وجہ کیوں اس معاملے میں ٹانگ اڑائیں۔یہ تقدیر خدا کی ہے جو چلے گی اور اسی نے فیصلہ کرنا ہے۔جہاں تک مومن کی ذات کا تعلق ہے، حضرت اقدس محمد مصطفی ہے کے بچے غلاموں کا تعلق ہے، ان کو ایک خوش خبری دی گئی ہے کہ خدا کی ساری زمین تمہارے لئے مسجد بنادی گئی ہے (مسلم کتاب المساجد حدیث: 815) اس لئے احمدیوں سے مسجد نہیں چھین سکتے جو مرضی ہے کر لیں، ناک رگڑ لیں جو کچھ بھی ان کے اختیار میں