خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 692
خطبات طاہر جلد 13 692 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء ویسا ہی جشن ہے جیسے بابری مسجد کے انہدام پر ہندو پنڈتوں نے جشن منایا تھا اور بڑی تعداد میں مشرکوں نے ہندوستان میں جشن منایا تھا۔کل ایک بابری مسجد ہی کا واقعہ راولپنڈی کی احمد یہ مسجد سے دہرایا گیا ہے۔وہ عید گاہ کے اوپر جو بڑی عبادت کی غرض سے عمارت تعمیر کی گئی تھی تاکہ ساری پنڈی کی جماعت ایک جگہ ہو کر جمعہ اور دیگر بڑی عبادتوں کے فرائض سرانجام دے سکے۔کل اسے اسی طرح منہدم کیا گیا جس طرح بابری مسجد کو منہدم کیا گیا۔بیرونی دیوار کی اینٹیں بھی اسی طرح ہٹا دی گئیں، جو سرونٹ کوارٹرز تھے ان کو بھی منہدم کر دیا گیا۔غرضیکہ کلی وہاں سے ہر عمارت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی اور یہ وہ واقعہ ہے جس کا جشن منایا جا رہا ہے۔پس اس لئے جب میں نے کہا کہ اس جشن کے پیچھے ایک وجہ موجود ہے تو وہ بالکل وہی وجہ ہے جو ہندوؤں کے جشن منانے کے پیچھے تھی، مشرکوں کے جشن منانے کے پیچھے تھی ، جب انہوں نے ایک مسجد کو منہدم کیا تھا۔اب ان کے درمیان فرق کیا ہے۔بظاہر ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں اور ایک وہ ہیں جو کھلم کھلا ایک خدا کا انکار کرتے اور بتوں کی پرستش کرتے ہیں اس لئے ان کا اپنے مسلک کے مطابق کسی ایک خدا کی عبادت کرنے کی جگہ کو منہدم کرنا تعجب انگیز نہیں ہے۔ان کا مذہب غلط ہی ان کے مذہب کا حصہ ہے۔یہاں مذہبی اقدار کے بالکل منافی ان کو پاؤں تلے روندتے ہوئے وہ ظلم کیا گیا جو قرآن کریم کے نزدیک سب سے بڑا ظلم ہے اور پھر اس پر جشن منایا جارہا ہے۔یہ حکمت مجھے سمجھ آئی کہ کیوں آنحضرت ﷺ نے آنے والے زمانے کے پنڈتوں کو دنیا کی سب سے ذلیل مخلوق قرار نہیں دیا بلکہ علمانُهم مسلمان کہلانے والوں کے علماء کے متعلق فرمایا کہ ان کے علماء آسمان کے نیچے شر من تحت اديم السماء (مشكوة كتاب العلم : 38) جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے ذلیل ترین اور کمینی ترین مخلوق اس زمانے کے علماء ہوں گے، تو حکمت واضح ہے۔ورنہ بابری مسجد کا بھی کوئی ذکر اشارہ کسی حدیث میں ملتا۔مشرکوں نے جب ایسی ظالمانہ کارروائیاں کی ہیں ان کا بھی کوئی اشارہ نظر آتا مگر چونکہ ان کے مذہب کے عقائد میں یہ باتیں داخل ہیں اس لئے اس کو منافقانہ حرکت بہر حال نہیں کہہ سکتے۔مگر ایک خدا کی عبادت کرنے کے دعویدار ہو کر اس قرآن کا مطالعہ کرنے کے باوجود جس میں یہ لکھا ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسْجِدَ اللهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا (البقره: 115 ) ان بدبختوں سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو مسجدیں اجاڑنے کی فکر کرتے ہیں۔ان کو اجاڑیں اور جب ان