خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 684
خطبات طاہر جلد 13 684 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 /ستمبر 1994ء اس آیت میں ہے یعنی وہ بالکل کائے جاتے ہیں ان پر دروازے آسمان کے روز مرہ کے بند نہیں کئے جاتے جہاں ویل کا لفظ آ گیا وہاں یہ مضمون ختم ہو جاتا ہے لیکن ایسے لوگ ذرا ادنی بیماری میں مبتلا ہوں عبادتیں بھی کر رہے ہوں اور ان کمزوریوں میں بھی مبتلا ہو جائیں اگر اللہ ان کو بچانا چاہے تو ان سے اپنے ہاتھ روک لیتا ہے اور پھر اس طرح ان کو سبق ملتا ہے اور جو خوش نصیب ہیں وہ بیچ بھی جاتے ہیں۔خادموں اور مزدوروں سے حسن سلوک کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے یہاں ذاتی نوکروں کا رواج تو کم ہے یعنی یورپ میں لیکن ہمارے تیسری دنیا کے ممالک میں یہ عام رواج ہے اور ان سے جو سلوک ہوتا ہے وہ بہت ہی نا قابل برداشت ہے اور ہرگز اسلامی سلوک سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے وہ غیر اسلامی سلوک ہے جو ہمارے معاشرے میں اکثر کیا جاتا ہے۔نوکروں سے بسا اوقات ،سخت کام ایسے لئے جانا کہ جو عام روز مرہ کی طاقت سے بڑھ کر ہوں یہ ظلم ہے یہ اگر جانوروں سے بھی کیا جائے تو تب بھی اس کی اجازت نہیں ہے اور آنحضرت ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ایک موقع پر ایک اونٹ کی حالت خراب دیکھی تو آپ نے بہت سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور کہا کہ اس کا مالک اس پہ ظلم کرتا ہے اور پھر اس نے اس کو آزاد کیا اپنی بخشش کی خاطر اور فرمایا کہ یہ تو ظلم کی شکایت کر رہا ہے اپنے مالک کے خلاف۔تو اگر آنحضرت میلہ کا فیض جانوروں پر بھی اسی طرح جاری ہے تو نوکروں اور روزمرہ کے گھر کے ملازموں کو جو انسان ہیں ان کے لئے تو آنحضرت ﷺ کی رحمت بدرجہ خاص جوش میں آتی ہے اور کثرت سے ایسے پاک نمونے ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ اپنے صحابہ میں اپنے ماتحتوں سے غیر معمولی حسن سلوک دیکھنا چاہتے تھے اس کی چند مثالیں کچھ نصیحتیں ہیں جو میں نے چینی ہیں، ایک ان میں سے ہے جو مسلم کتاب الایمان سے لی گئی ہے۔حضرت معرور بن سویڈ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر کو ایک خوب صورت جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ان کے غلام نے بھی ایسا ہی جوڑا پہن رکھا تھا۔میں نے تعجب سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں انہوں نے اپنے غلام کو برا بھلا کہا اور اس کی ماں کے عیب بیان کر کے اسے شرم دلائی۔حضور اکرم ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا تم میں جہالت کی رگ باقی ہے یعنی یہ جہالت کی حرکت ہے یہ غلام تمہارے بھائی ہیں وہ