خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 679

خطبات طاہر جلد 13 679 خطبه جمعه فرموده 9 ستمبر 1994ء جو نہ بچیں پھر وہ خدا سے ضائع ہو جاتے ہیں پس یہ وہ مضمون ہے جس کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے اور یہ صرف اسی دائرے سے تعلق نہیں رکھتا کہ ضرورتیں پوری کی جائیں بلکہ اور بھی بہت سے ایسے روزمرہ کے تجربات ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جن سے نیک توقعات رکھتا ہے ان کی ادنی لغزشوں کو بھی بعض دفعہ پکڑتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ مجھے تمہاری یہ بات پسند نہیں آئی اور ان کو ایک معمولی سی سزادے کر سمجھا دیتا ہے اور اس کے بعد پھر ان سے غیر معمولی حسن سلوک فرماتا رماتا ہے غیر معمولی پیار سے ان کی دلداریاں کرتا ہے۔ یہ جو خدا کا بندوں سے تعلق ہے یہ انسانی تعلقات کے دائروں پر غور کرنے سے بھی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ بعض لوگ کسی انسان کے ساتھ بدسلوکیاں کرتے چلے جاتے ہیں لیکن اس کو کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کوئی جواب نہیں دیتا لیکن اپنا کوئی پیارا جس پر اعتماد ہو اس کی ادنی سی لغزش سے بھی دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے اور پھر انسان اس سے نظر پھیرتا ہے یا اس کو وقتی طور پر سمجھانے کی خاطر کوئی اس کو نمونہ اپنی ناراضگی کا عطا کرتا ہے۔ یہ اس لئے کہ تا کہ وہ سمجھ جائے اور اس کے بہترین اور پاکیزہ تعلقات دوبارہ اس سے بحال ہو جائیں چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا فرمایا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے تو اس سے یہ مراد ہے کہ جتنی فطرت بھی انسان کو عطا ہوئی ہے وہ خدا کی فطرت یا اس کی صفات کے مطابق ہے اس کے منافی نہیں ہے۔ یہ مطلب بھی نہیں کہ خدا کی تمام صفات انسان میں جلوہ گر ہیں۔ نہ خدا کی تمام صفات فرشتوں میں جلوہ گر ہیں نہ انسان میں ہیں بلکہ خدا کی مخلوقات کے امکانات لامتناہی ہیں اور ہر مخلوق میں خواہ وہ ادنی ہو یا اعلیٰ ہو خدا کی صفات ضرور جلوہ گر ہوتی ہیں کہیں کم کہیں زیادہ۔ تو مراد یہ ہے کہ انسان کو اس حد استطاعت تک اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے نمونے پر بنایا ہے اور اسی نمونے کو قائم رکھنا ہی حقیقی نیکی ہے اور اس سے باخدا انسان بنتے ہیں پس جو اپنی فطرت کے خواص کو چمکاتا ہے جو الہی صفات ہیں وہ با خدا بنتا چلا جاتا ہے جو ان صفات کو نظر انداز کر کے محض خدا کے حضور ماتھا ٹیکنے کو ہی عبادت سمجھتا ہے یا زندگی کا مقصد اور صفات الہی سے آنکھیں بند کر لیتا ہے صفات الہی کے سامنے اپنی گردن نہیں جھکا تا وہ انسان دھوکے میں مبتلا ہے کہ میں عبادت کر رہا ہوں بلکہ اس کی عبادت محض ایک جسم کا جھکنا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ پس آنحضرت ﷺ جو بات فرماتے ہیں چونکہ وہ صفات الہی کا کامل مظہر ہیں اس لئے صفات الہی کے