خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 678

خطبات طاہر جلد 13 678 خطبہ جمعہ فرموده 9 /ستمبر 1994ء یہ نیت ہو۔ہاں فائدے کی خاطر بنی نوع انسان سے ہمدردی کے لئے جو دم آپ پڑھتے ہیں وہ سراسر جائز ہے اور پھر اگر کوئی تحفہ پیش کرتا ہے تو وہ آپ کے لئے تحفہ ہے نہ کہ اس دم کی قیمت۔ابوالحسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن مرہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو امام حاجت مندوں، ناداروں اور غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات وغیرہ کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کو سننے کے بعد حضرت معاویہؓ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ وہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کا مداوا کیا کرے اور ان کی ضرورتیں پوری کرے۔ترندی کتاب الاحکام باب فی امام الرعیہ )۔یہ جو حدیث ہے یہ قابل توجہ ہے اور کچھ تشریح کی محتاج ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جو لوگوں کی ضرورتیں پوری کرے اس کی ضرورتیں خدا پوری کرتا ہے یہ تو ایک مثبت مضمون ہے جو دوسری احادیث میں بھی ملتا ہے اور اس میں کوئی اشتباہ نہیں کسی قسم کی کوئی گنجلک نہیں ہے جسے دور کیا جائے جو ایسا نہیں کرتا یعنی جو غریبوں پر اپنے دروازے بند کرے اس کی ضرورتوں کے لئے آسمان کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں یہ مضمون عام نہیں ہے کیونکہ اگر یہ مضمون عام ہو تو جتنے ایسے بد نصیب لوگ ہیں جو مال دولت والے ہیں اور اپنے دروازے غریبوں پر بند رکھتے ہیں یا وہ امیر تو میں جو اپنے اموال اور دولتوں کو غریب قوموں پر خرچ نہیں کرتیں بلکہ محض تجارتی یا سیاسی فوائد کی خاطر ان کو استعمال کرتی ہیں ان کی ضرورتیں سب بند ہو جانی چاہئیں اور ایسے سب لوگ دیکھتے دیکھتے محتاج ہو جانے چاہئیں۔پس اس حدیث کے مضمون کو عام نہ سمجھا جائے میرا تجر بہ بتاتا ہے کہ جن خدا کے بندوں میں کچھ ایمان ہو جن کو اللہ بچانا چاہے ایسی سزائیں صرف ان کو دیتا ہے اور جو خدا سے دور ہیں جن سے اللہ بے نیاز ہو چکا ہے ان کو یہ سزا نہیں دی جاتی۔تو بعض دفعہ سزا کا دیا جانا پیار کا اظہار ہوتا ہے اور سزا کا نہ دینا غضب کا اظہار ہوتا ہے۔اس حدیث کا بھی اسی مضمون سے تعلق ہے بعض لوگ جو خدا کا ذکر بھی کرتے ہیں اس سے پیار بھی رکھتے ہیں اور اپنی بدنصیبی کی وجہ سے اتنے خسیس ہوتے ہیں کہ اس کے باوجود ان کی اصلاح نہیں ہوتی اور خدا کے بندوں پر وہ فیض بند کر دیتے ہیں جو اللہ نے ان کو عطا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنے فیض کے دروازے بند کرتا ہے ان کو سمجھانے کے لئے ان کو بچانے کے لئے اور کئی دفعہ ایسے لوگ سمجھ کر پھر بیچ بھی جاتے ہیں اور