خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 677

خطبات طاہر جلد 13 677 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 ستمبر 1994ء اے اللہ کے رسول آپ نے دم کرنے سے منع فرمایا ہے اور میں بچھو کا دم کرتا ہوں اور لوگوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے اس پر آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو کوئی فائدہ پہنچا سکے وہ ضرور پہنچائے۔مقصد یہ ہے کہ دم درود کو پیشہ بنانا جائز نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو بیچنے کے مترادف ہے یعنی ایک قسم بیچنے کی یہ بھی ہے کہ انسان کچھ قرآن کریم کی آیات یا کچھ اور نیکی کے کلمات پڑھ کر کسی پر پھونکے اور پھر ان سے پیسے وصول کرے مگر آنحضرت ﷺ نے اس کی تشریح فرما دی ہے اگر خدا کے کلام سے تم برکت حاصل کرتے ہوئے کسی کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہواور تمہارا تجربہ بتا تا ہے کہ اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو اس نیکی کی غرض سے دم کرنے سے نہ رکو کیونکہ یہ اس مضمون میں داخل نہیں ہے جس کا تعلق خدا کی آیات بیچنے سے ہے۔(مسلم کتاب الاسلام باب استحباب الرقیہ )۔ایک اور موقع پر جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کئی دفعہ۔دوصحابی کسی جگہ مشکل میں مبتلا ہوئے اور کھانے اور پانی سے محروم تھے ان کو ایک قبیلے نے اپنے دشمن قبیلے کا حصہ سمجھتے ہوئے اندر داخل ہونے سے ہی منع کر دیا مگر جب ان کے سردار کو پتا چلا جو شدید سر درد میں مبتلا تھا تو اس کو خیال آیا کہ شاید ان کے پاس کوئی ٹوٹکا ایسا ہو جس سے میں ٹھیک ہو جاؤں ان کی طرف آدمی بھگائے ان کو بلایا گیا اور پھر جب انہوں نے سورۃ فاتحہ کا دم کیا تو اس کی درد آنا فانا ٹھیک ہو گئی اس کے بعد انہوں نے جو تحفہ پیش کیا وہ انہوں نے کھایا لیکن آپس میں گفتگو ہوئی۔ایک نے کہا کہ یہ حرام تو نہیں ہو گیا کہیں یعنی مجھے شک ہے اور دوسرے نے کہا کہ نہیں جائز ہے۔(مسلم کتاب الاسلام حدیث:4080) آنحضرت ﷺ نے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ اس طرح دیا کہ خودان سے ایک ٹکڑا گوشت کا مانگ کر وہ بھی کھایا اور بتایا کہ ہاں ایسا جائز ہے کہ محمدرسول اللہ ﷺے کے لئے بھی جائز ہے۔تو جو تقویٰ میں سب سے بڑھا ہوا ہے اگر اس کے لئے جائز ہے تو ادنی آدمیوں کے لئے کسی تردد کی ضرورت نہیں۔اس حدیث کا اس حدیث سے تصادم نہیں ہے یہ میں اس وجہ سے دوبارہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ایک انسان کسی سے نیکی کرتا ہے اور وہ نیکی کے جواب کے طور پر کچھ تحفہ پیش کرتا ہے تو یہ آیات بیچنے کے دائرے میں داخل نہیں ہے۔اگر ایسا ہوتا تو نعوذ باللہ رسول اکرم ﷺ نہ اجازت دیتے نہ اس میں سے خود کچھ کھاتے تو اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ ان دو باتوں میں تضاد ہے۔مضمون یہی ہے کہ اس نیت سے خدا تعالیٰ کے کلام سے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچانا کہ وہ اس کے بدلے میں کچھ رقم دیں اور نہ یہ مطالبہ ہونہ