خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 676
خطبات طاہر جلد 13 676 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 ستمبر 1994ء قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ نیکی ہوتی ہی وہ ہے جو بدیوں کو نکال باہر پھینکے پس اگر ہر دفعہ وہی بدی کرنی ہے اور اس پر اصرار کرنا ہے اور پھر اس حدیث کا غلط معنی سمجھ کر نیکیاں کر کے اس کی عقوبت سے بچنے کی کوشش کرنا ہے تو یہ نہایت بیوقوفی ہے اس کا اس حدیث کے مضمون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مراد ہے نیکیاں کرو خواہ بار بار بھی کمزوری ہو مگر اس وجہ سے نہیں کہ میں نیکی کر کے کمزوری ٹھیک کرلوں گا۔یہ جہالت ہے یہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے لاعلمی بلکہ اس کی گستاخی کے مترادف ہے اس لئے بات کو سمجھ لیجئے مراد یہ ہے کہ اگر بدی ہوتی ہے تو اس بدی کو دور کرنے کی آپ میں طاقت نہیں ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ نیکیاں کریں اور جب نیکیاں کرتے ہیں تو نیکی کی لذت آپ پہ قبضہ کر لیتی ہے اور ایک ذاتی تعلق نیکی سے ایسا پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کے مقابل پر بدی کا مزہ کم ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ بدی زائل ہو جاتی ہے۔پس اگر بے اختیاری میں گناہ ہوں یا بے اختیاری میں بار بار بھی ہوں تو اس نیت سے نیکی کرنی ہے کہ اس بدی کو زائل کرنے میں نیکی سے مدد لینی ہے اور نیکیاں کرتے چلے جانا ہے یہاں تک کہ بدی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور اس کا وہی حال ہو جیسے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِل سچائی کا نور جب آتا ہے تو باطل کے اندھیرے خود بخود بھاگ جاتے ہیں وہ اکٹھے رہ نہیں سکتے۔پھر فرمایا اور لوگوں سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش آؤ ( ترمذی کتاب البر والصلۃ باب فی معاشرۃ الناس)۔لوگوں سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک بھی نیکی کی مثال کے طور پر بیان ہوا ہے جب یہ فرمایا کہ نیکی کرو تو اس نیکی میں ایک خوش اخلاقی اور حسن سلوک کو بھی داخل کر لیا اور یہ ایک عام نیکی ہے جس سے معاشرہ سدھرتا ہے اور معاشرے میں آپس میں تعلقات میں ملائمت ،نرمی اور شائستگی پیدا ہو جاتی ہے اس لئے اس کو عام دستور بنانا ضروری ہے کہ ہر ایک سے حسن سلوک کریں حسن معاملت کریں اور مسکرا کر محبت اور پیار سے بات کریں دلداریاں کریں یہ جو روزمرہ کے اخلاق کے تقاضے ہیں انہیں پورا کرنا ان نیکیوں میں داخل فر ما دیا گیا ہے جن کے ذریعہ بدیاں مٹتی ہیں۔حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ایک ماموں تھے جو بچھو کا دم کرتے تھے حضور نے جب دم کرنے سے منع فرمایا تو وہ حضور کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ