خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 662
خطبات طاہر جلد 13 662 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 /ستمبر 1994ء ایک ایسے شخص کو منتخب کرے جس کا آنا یا نہ آنا برابر ہو جائے۔پس آپ پر صداقت احمدیت کا ان معنوں میں انحصار ہے۔اگر آپ نے یہ صداقت اپنے اعمال سے ثابت نہ کی تو خدا نے تو ضرور کرنی ہے۔اس لئے تو میں بدلائی جائیں گی۔آپ کی جگہ کچھ اور لوگ آئیں گے جن کو خلق محمدی اپنانا ہوگا اور خدا کی تقدیر ان کو اپنانے میں مدد دے گی۔پھر وہ اولین اور آخرین ملانے کا ایک زندہ ثبوت بن جائیں گے۔پس ان باتوں کو چھوٹی نہ سمجھیں بہت گہری ہیں اور ان کے نتیجے میں قوموں کی کایا پلیٹ جایا کرتی ہے۔اب بیاہ کی بات ہو رہی تھی۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت اس شرط پر شادی نہ کرے کہ اس کا خاوند اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور یہ باتیں ہمارے ملک میں عام پائی جاتی ہیں اور احمد یوں میں دوسری شادی بہت کم پائی جاتی ہے۔مگر جتنی بھی ہے ان میں تکلیف دہ باتیں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔بعض عورتیں کہتی ہیں کہ پہلی بیوی کو طلاق دو گے تو ہم شادی کریں گے اور بعض بد نصیب مردنئی دلہن کے چاؤ میں پہلی بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں یا یہ وعدہ کر لیتے ہیں کہ ہم كَالْمُعَلَّقَةِ چھوڑ دیں گے ہم ان سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے۔تو پہلی بیوی تو حرام خود ہی کر لی دوسری بھی حرام ہو گئی۔اس لئے بہت ہی بیوقوفی کی بات ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے اچھی بھلی بیوی دی تھی اس کو تم اپنے منہ سے حرام کر بیٹھے ہو اور جو دوسری کی اس کو اللہ نے آپ پر حرام کر دیا۔پس یہ جہالت نہ کیا کریں۔رسول اللہ ﷺ نے جو نصیحتیں فرمائی ہیں ان کا گہری نظر سے مطالعہ کر کے ان پر عمل کریں اسی میں برکت ہے، اسی میں معاشرہ کا حسن ہے اور آپ نے لا زما ایک حسین معاشرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے ورنہ آپ کا کوئی سودا نہیں کرے گا۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ جہاں عورتوں کا تعلق ہے عورتیں بھی اس بات کو سمجھیں کہ ناجائز غیر اسلامی شرطیں نہ لگایا کریں اور مرد یہ سمجھیں کہ اگر وہ لگاتی ہیں تو ان کی قطعا پر واہ نہ کریں۔محض بھاؤ بڑھانے کے لئے بولی نہ دی جائے بعض لوگ منڈیوں میں یہ کرتے ہیں کہ بھاؤ بڑھانے کے لئے باقاعدہ آدمی مقرر کئے ہوتے ہیں جب بولی آئے گی اتنی آئے تو تم اس سے زیادہ کچھ اور کر دینا پھر اس سے زیادہ کچھ اور کر دینا پھر وہ جب اس برج تک پہنچ جاتے ہیں اور اگر وہ اپنا ہی جعلی آدمی ہو اور اس بات پر ٹھہر جائے تو وہی چیز پھر دوبارہ منڈی میں بکنے آتی ہے۔کیونکہ خریدار تو