خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 652 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 652

خطبات طاہر جلد 13 652 خطبہ جمعہ فرموده 2 ستمبر 1994ء سکے۔یعنی ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب کہ وہ آخرین پیدا ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ ان اولین سے ملا دے گا۔میں جماعت کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ اس ملانے کے لئے ایک بہت عظیم اور مضبوط پل کی ضرورت ہے اور یونہی کہانیوں کی طرح فرضی طور پر نہیں ملائے جائیں گے بلکہ اس کی ایک معقول وجہ دکھائی دے گی اور دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ آخرین اولین سے مل گئے ہیں۔وہ ملانے والا پل کہہ لیجئے یا وہ مضبوط رسی جس کے ذریعے سے آپ کا اولین سے رابطہ ہونا ہے وہ خلق محمدی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جس طرح اپنوں پر محنت فرمائی اور دن رات جانفشانی کے ساتھ آپ نے اپنے صحابہ کے اخلاق کو درست فرمایا اور کچھ فطری طور پر آپ کے حسن میں ایسی شان تھی کہ محنت کی بھی ضرورت نہیں پڑتی تھی اس لئے بہت سے عشاق تھے جو آپ کے حسن کے گرویدہ ہوکر از خود ہی آپ کے اخلاق ان کی ذات میں منتقل ہوتے چلے جاتے تھے۔یعنی نور محمد آن میں سرایت کرتا جاتا تھا۔اب بھی وہی دور ہے ان معنوں میں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا کہ آنحضور ﷺ کی سیرت کو از سر نو زندہ صورت میں دکھا ئیں اور آنحضوری نے فرمایا کہ وہ آنے والا ایک ایسا شخص ہوگا کہ ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو اسے زمین پر کھینچ لائے گا۔( بخاری کتاب التفسیر حدیث : 4518) پس ایمان کا دوبارہ زندہ ہونا اور خلق محمدی کا انسانوں کی سیرت میں سرایت کر جانا در حقیقت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کی نصائح اور آپ کے اعمال حسنہ کے حوالے سے جو میں خطبات سلسلہ واردے رہا ہوں ان کو توجہ سے سنیں اور ان پر غور کریں اور جہاں تک توفیق ملے دعاؤں کے ساتھ ،صبر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ سے نمازوں کے ذریعے مدد مانگتے ہوئے ان تمام اخلاق کو اپنا ئیں جو آنحضرت ﷺ کے اخلاق تھے۔ان تمام اخلاقی نصیحتوں پر عمل فرما ئیں جو آنحضرت ﷺ نے ہمیں عطا فرمائیں۔الله حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ظلماً کسی مسلمان کا حق مار لے اللہ تعالیٰ اس کے لئے دوزخ کی آگ مقدر کر دیتا ہے اور جنت اس پر حرام کر دیتا ہے۔(مسلم کتاب الایمان حدیث : 194)۔اب یہ ایک ایسی بات ہے جو اس زمانے کا روز مرہ کا دستور بن چکی ہے اور بڑی قو میں اگر حق مارتی ہیں تو قومی حساب سے مارتی ہیں۔انفرادی اخلاق کے لحاظ سے ان کا مرتبہ مشرقی قوموں کے مقابل پر بہت اونچا ہے