خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 646

خطبات طاہر جلد 13 646 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994ء تجربے سے سیکھی ہے جب ایک کمزور اور غریب کی عیادت کو آپ جاتے ہیں تو اور بھی بہت ساری باتیں آپ کے سامنے آجاتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کی نصیحتیں حکمتوں کا خزانہ تھیں اور ہیں اور رہیں گی۔کئی دفعہ یہ واقعہ ہوا کہ مجھے بحیثیت ہو میو پیتھ کے کسی نے بلا بھیجا کہ فلاں بیمار ہے گھر میں کوئی ڈاکٹر اور میسر نہیں آرہا یا ہم میں طاقت نہیں ہے کہ ہم علاج کروا سکیں اور مریض آپ کے پاس نہیں آسکتا اس لئے آپ خود آ کر اسے دیکھیں اور اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ، میں نے جا کر دیکھا تو اس وقت مجھے سمجھ آئی کہ عیادت کیا ہوتی ہے۔صرف بیماری کا مسئلہ نہیں تھا خوراک کا بھی مسئلہ تھا۔صرف بیماری کا مسئلہ نہیں تھا اس کے عمومی گھر کے حالات اور رہن سہن کا بھی مسئلہ تھا جو مکھیوں اور مچھروں میں گھرا ہوا مریض جس کے گھر میں بچے بھوک سے بلبلاتے اور شور کرتے ہوں اس کی عیادت کا یہ مطلب کہاں سے ہو گیا کہ آپ کا کیا حال ہے۔اس کی عیادت کا تو یہ مطلب ہے کہ جب آپ اس کی عیادت کو جائیں تو آپ کے دل سے ایک ہمدرد، ایک سچا عیادت کرنے والا مسلمان بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہو اور آپ اس کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھیں اس کی دوسری چیز میں بھی ساتھ پوری صلى الله کریں جن کی ان کو ضرورت ہے۔یہ مفہوم ہے آنحضور ﷺ کا کہ اپنے بھائیوں کو بغیر عیادت کے نہ چھوڑنا کیونکہ ایک مریض جب لاچار اور بے سہارا سوسائٹی میں اس طرح چھوڑ دیا جاتا ہے کہ گویا وہ اپنی موت کے انتظار کے لئے بنایا گیا تھا جب ایک سچا مسلمان اس کی عیادت کو جاتا ہے تو اس کی اور بھی بہت سی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں یہ بہت خوبی پائی جاتی تھی۔میں کثرت سے ایسے صحابہ کو جانتا ہوں کہ جب وہ عیادت کو جایا کرتے تھے تو دوسری ضرورتیں بھی ساتھ پوری کیا کرتے تھے اور واپس آ کر بعض دفعہ نظام کو بھی متوجہ کرتے تھے کہ فلاں ایک مریض ایسا ہے جس کو اس اس چیز کی ضرورت ہے۔پس عیادت کا جو مضمون آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے اس میں سوسائٹی پر سوسائٹی کے ہر ممبر کا ایک حق ہے جس کی طرف صلى الله توجہ دلائی گئی ہے۔پھر فرمایا فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شامل ہو۔اب جنازہ تو پڑھا ہی جاتا ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ کوئی نہ کوئی دو دو چار چار آدمی تو مل ہی جاتے ہیں لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کوئی بڑا آدمی فوت ہو تو ہجوم در ہجوم لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور کوئی غیر معروف شخص کوئی غریب