خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 645

خطبات طاہر جلد 13 645 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994ء لاچار ہے، اس کی عیادت نہیں ہو رہی اور صاحب اثر لوگوں کی عیادت ہوتی ہے تو آنحضرت مے کی نصیحت پر عمل نہیں ہوا۔پس عیادت کے مضمون سے پتا چلتا ہے کہ مسلمان کا بحیثیت سوسائٹی یہ فرض ہے کہ اپنے میں سے کسی کو بغیر عیادت کے نہ رہنے دے اور بے سہارا نہ رہنے دے اگر اس بات کو آپ رواج دیں گے تو کتنے ہی ایسے ہیں جن کی بیماری کی تلخیاں دور ہونی شروع ہو جائیں گی ، ان کو سکون نصیب ہو جائے گا جبکہ اس وقت اس میں کمی پائی جاتی ہے۔چنانچہ آئے دن مجھے کبھی ہندوستان سے کبھی ، بنگلہ دیش سے، کبھی پاکستان سے، کبھی افریقہ سے ایسے خطوط ملتے ہیں کہ میں ایک کمزور، ناچار، بیمار ہوں۔کوئی مجھے نہیں پوچھتا اور بعض لوگ لکھتے ہیں خدا کے سوا میرا کوئی نہیں رہا۔میں ان کو کہتا ہوں کہ اگر واقعہ آپ نے یہ بات سچی کہی ہے کہ خدا کے سوا آپ کا کوئی نہیں تو مبارک ہو کہ آپ کا سب کچھ ہے لیکن اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ خدا کا کیا فرق پڑتا ہے دنیا نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور خدا میرے ساتھ کا مطلب ہے کہ کوئی بھی میرے ساتھ نہیں رہا تو آپ نے خود اپنا ہمیشہ کے لئے نقصان کر دیا ہے۔لیکن بات سمجھانے کے بعد میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اگر میرے علم میں کوئی ایسے ذی اثر صاحب ثروت ہوں جو اس کے قریب رہتے ہوں ان کو توجہ دلاتا ہوں اور بعض دفعہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں خصوصیت سے ایسے شخص کی عیادت کے لئے احمدیوں کو بھجواتا ہوں یا نظام جماعت کو کہتا ہوں کہ وہ کسی کو بھیجیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیشہ اس کا بہت ہی نیک نتیجہ نکلتا ہے۔ایک ایسا شخص جو اپنے آپ کو بے سہارا سمجھ رہا ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ کوئی میری عیادت کی فکر اس لئے نہیں کر رہا کہ میں بے حقیقت چیز ہوں۔اچانک اس کے اندر ایک نیا اعتماد اٹھ کھڑا ہوتا ہے اس کے اندر ایک حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے وہ جانتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا ہر فر دسہارے والا ہے اور جو اس جماعت کا فرد ہے اس کو ایک ضمانت ہے کہ وہ اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔پس آنحضرت ﷺ نے جو نصیحت مسلمان کو بحیثیت مسلمان کی ہے اس کی حقیقت کو سمجھیں اور اپنی سوسائٹی میں جہاں بھی آپ ہیں یہ رواج قائم کر دیں کہ کوئی غریب سے غریب انسان بھی بیماری کے وقت بے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا۔جب آپ اس کی عیادت کو جائیں گے تو اس کے ساتھ بہت سے اور فائدے بھی مضمر ہیں عیادت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ پوچھ آئے کیوں جی کیا حال ہے اس نے کہا بہت برا حال ہے اور آپ گھر کو واپس آگئے۔یہ میں ایسی بات کہہ رہا ہوں جو میں نے