خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 631
خطبات طاہر جلد 13 631 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 راگست 1994ء طریق ہو گا۔ایسے لوگ سوسائٹی میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نفرتوں کے بیج بو دیتے ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے طریق سے ہٹ کر ایک غیر طریق اختیار کرتے ہیں جس میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔قرآن کریم نے جو وعدہ فرمایا ہے وہ یہ ہے وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہ لوگ جو اس نصیحت پر عمل کرنے والے ہوں گے خدا وعدہ کرتا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہوں گے۔پس نصیحت کے بھی انداز ہیں، اسلوب ہیں، سلیقے ہیں۔جو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ ہی سے سیکھنے ہوں گے اور اسی کردار کے مطابق اپنے کردار کو ڈھالنا ہو گا۔پس نصیحت کے ساتھ طعن و تشنیع کو ملانا نصیحت کو برباد کر دینا ہے اور ایسا شخص خود آپ بھی نقصان اٹھاتا ہے۔وہ جانتا ہی نہیں کہ عمر بھر وہ ایک اندرونی تکبر کا شکار رہا ہے۔وہ جانتا ہی نہیں کہ اس کا نصیحت کرنا دوسرے کی بھلائی کے لئے نہیں تھا بلکہ اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے تھا۔یہ بتانا مقصود تھا کہ میں تم سے بہتر ہوں اور اگر یہی طریق ہو نصیحت کا تو ایسی نصیحت کبھی بار آور ثابت نہیں ہو سکتی۔پس نصیحت کریں لیکن خلق محمدی کو اپناتے ہوئے، پیار اور محبت کے ساتھ ، دلسوزی کے ساتھ ، جان گداز کرتے ہوئے ، اس طریق پر کلام کریں جو دل پر اثر کرنے والا ہو اور اس کے نتیجے میں واقعہ پاک تبدیلی پیدا ہو۔دوسری بات یہ ہے کہ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ میں نیکی کی طرف بلانے والے کا کچھ اپنا بھی تو کردار ایسا ہونا چاہئے کہ اس کی نیکی اس کی ذات سے اس طرح چھلکے جیسے لبالب پیالہ بھرا ہو تو اس سے کوئی شربت چھلکتا ہو۔اگر انسان خیر کی طرف بلاتا ہے اور خود مجسم خیر نہیں ہے یا کم سے کم اس خیر کی طرف بلاتا ہے جو خیر اس میں نہیں پائی جاتی تو یہ نصیحت بھی خواہ عاجزی کے ساتھ کی جائے بالکل بے اثر ثابت ہوتی ہے۔پس يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ میں ایک دوہرے فائدے کا مضمون ہے۔جو لوگ بھلائیوں کی طرف بلانے والے ہیں ان کا ضمیر ان کو ہمیشہ ان کی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے اور بعض دفعہ اگر ایک انسان مجبورا ایک منصب پر فائز ہے جہاں اس نے ضرور بھلائی کی طرف بلانا ہے تو اس کی اپنی کمزوریاں بار بار اس کے سامنے آتی ہیں اور اس کے حضور فریادی ہو جاتی ہیں کہ تم دوسروں کو جن نیکیوں کی طرف بلا رہے ہو اپنی ذات کی طرف بھی توجہ کرو۔اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جو سننے والے ہیں وہ ایسے شخص سے کیا سلوک کریں۔بعض دفعہ ایک شخص