خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 630
خطبات طاہر جلد 13 630 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994ء نصیحت کرنا بجز کے ساتھ نصیحت کرنا ہے، نہ کہ حکم کے ساتھ کسی اچھی بات کی طرف بلانا ہے اور اسی سنت نبوی میں اس طریق کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔وہ لوگ جو نصیحت کرتے تو ہیں مگر سنت کے مطابق عجز اور انکساری اور محبت اور پیار اور دل کے گہرے جذبے سے نصیحت نہیں کرتے بلکہ ان کے اندر حکم پایا جاتا ہے ان کی نصیحت کبھی کامیاب نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات برعکس نتیجہ نکالتی ہے بسا اوقات ایسی نصیحت کرنے والے سوسائٹی میں نفرتوں کے بیج بو دیتے ہیں اور لوگ ایسے نصیحت کرنے والے سے دور بھاگنے لگتے ہیں اسی طرح یہ دیکھا گیا ہے کہ نصیحت کرنے والے بسا اوقات طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں اور نصیحت اس رنگ میں کرتے ہیں گویا جس شخص کو نصیحت کی جارہی ہے وہ تو ہر نیکی سے عاری ہے اور جو نصیحت کرنے والا ہے وہ بڑا متقی ہے اور بہت ہی خدا تعالیٰ کے ہاں معزز مقام رکھنے والا ہے تو اس طرح نصیحت کرتے ہیں جیسے نیچے جھک کر کسی ذلیل آدمی کی طرف انسان نگاہ کرے اور اسے روکے، بسا اوقات کتے کو دھتکارا جاتا ہے کہ یہ کام نہ کرو اس میں ایک امر کا مضمون ہے۔کتا جب برتن میں منہ ڈالنے لگتا ہے تو آپ نے دیکھا ہو گا کس طرح لوگ سختی سے اس کتے کو دھتکار دیتے ہیں۔لوگ بسا اوقات اپنی نادانی اور نا کبھی میں انسانوں سے بھی یہی سلوک کرتے ہیں۔کوئی بری بات ان سے صادر ہوتے دیکھتے ہیں تو حقارت کے ساتھ اور ڈانٹ ڈپٹ کر اسے اس بات سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہم نے نصیحت کا حق ادا کر دیا حالانکہ یہ نصیحت کا حق ادا کرنا نہیں، یہ نصیحت کے برعکس مضمون ہے جو نصیحت کا الٹ اثر پیدا کرتا ہے۔کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں کو طعن و تشنیع کی ایسی عادت پڑ جاتی ہے کہ وہ اپنے لمبے لمبے خطوط میں مجھے بھی ایسی ہی نصیحتیں کرتے ہیں کہ فلاں جگہ یہ ہورہا ہے، فلاں جگہ وہ ہورہا ہے، آپ سختی سے ان کو روکتے کیوں نہیں، آپ ان کو ڈانٹتے کیوں نہیں، آپ ان کو سزائیں کیوں نہیں دیتے۔فلاں جگہ ہم نے دیکھا کہ ایسی حرکت ہو رہی تھی۔وہ اپنے مزاج کو میرے مزاج پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں تحدی پائی جاتی ہے اور یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اگر مجھ سے ان کا یہ سلوک ہے کہ گویا مجھے حکما یہ فرمایا جارہا ہے کہ فلاں بات یوں ہورہی ہے، فلاں نے پردہ نہیں کیا ہوا تھا، آپ نے کیوں اس کو پروگرام میں آنے دیا۔فلاں نے فلاں بے احتیاطی کی تھی ، کیوں ڈانٹ ڈپٹ کر اس کو ٹھیک نہیں کیا گیا ؟ اگر مجھ سے یہ طریق ہے تو پھر اپنے ساتھیوں اور عامتہ الناس سے ان کا کیا