خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 624

خطبات طاہر جلد 13 624 خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1994ء دین سکھایا جاتا ہے ان جگہوں کے نام نہیں لئے۔مدینہ نہ کہنے کی ایک یہ بھی حکمت ہے کہ اسلام نے تو پھیلنا تھا ہر شخص کے لئے ممکن ہی نہ رہتا کہ وہ مدینے پہنچ سکے اور اگر آنحضرت ﷺ کا وصال ہو جانا تھا جیسا کہ ہونا تھا یہ بھی ممکن تھا کہ مدینہ میں وہ ایسے پاکباز مصلح، دین سیکھانے والے باقی نہ رہیں اور قوم کی حالت بگڑ چکی ہو تو ان سارے احتمالات کا جواب اس ایک آیت نے دے دیا۔اس کو کہتے ہیں فصاحت و بلاغت۔جہاں بظاہر کوئی سقم دکھائی دیتا ہے اس کو غور سے ٹھہر کے دیکھیں تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ وہ سقم نہیں ہے بلکہ عظیم روشنیوں کی طرف کھلنے والی ایک کھڑ کی تھی۔پس اس آیت کو اس زمانے پر چسپاں کر کے دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ کیوں مدینے کا ذکر نہیں کیا گیا کیوں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف جسمانی طور پر آنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ایک کھلی کھلی بات فرما دی گئی ہے جس کے سارے گوشے کھلے رکھ دئے تا کہ ہر زمانے کی ضرورت پر پوری طرح اس کا اطلاق ہو سکے نکلیں ، کدھر کو نکلیں ، کہاں جائیں کچھ بیان نہیں فرمایا۔فرمایا کوئی جگہ ایسی ضرور ہونی چاہئے جہاں ان کی تربیت کا انتظام ہو اور یہ مومنوں کی جماعت کا اجتماعی فرض بیان فرما دیا گیا۔جہاں جہاں ممکن ہے ان کے مراکز قائم کر دو۔لیکن یہ تمہارے لئے ممکن نہیں رہے گا یہ بھی ایک عجیب پیشگوئی ہے کہ جہاں جہاں بیعتیں ہورہی ہیں وہاں وہاں پہنچ کر ان کی تربیت کر سکو۔ان پر ذمہ داری ڈالو، ان کے نمائندے آئیں ، وہ سیکھیں، واپس جا کر اپنوں کو سکھائیں اور خصوصیت سے غیروں کو انذار کے ساتھ اس ہدایت اور پناہ گاہ کی طرف بلائیں۔یہ مضمون ہے جو جتنا آپ غور کرتے ہیں اور کھل کر پتھر کر جیسے پھول کھلتا ہے اس طرح کھل کر ہمارے سامنے بہت خوبصورتی کے ساتھ ظاہر ہورہا ہے۔پس تمام دنیا کی جماعتیں اس مضمون کی روشنی میں ایسی جگہوں پہ مراکز قائم کریں جہاں اردگرد کے علاقے کے لوگوں کے لئے آنا ممکن ہو اور ایسا نظام جاری کریں کہ سارا سال یہ سلسلہ جاری رہے، چلتا رہے۔ان کے لئے وہاں رہائش کا انتظام بھی دیکھنا ہوگا اور ادلنے بدلنے کا نظام جاری کرنا پڑے گا۔یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جب تک کوئی سمجھ نہ جائے اس وقت تک اس کو ٹھہرائے رکھنا ہے اور بہت زیادہ مکینیکل نہ بنائیں کلاسز کو۔یہاں مدت بھی بیان نہیں فرمائی گئی۔لیتَفَقَهُوا یہ شرط رکھ دی۔بعض لوگ ذرا ٹھہر کے سمجھتے ہیں بعض جلدی سمجھ جاتے ہیں۔جو ذرا ٹھہر کے سمجھتے ہیں ان کو روکنا