خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 610

خطبات طاہر جلد 13 610 خطبه جمعه فرموده 19 / اگست 1994ء یہ آیت کریمہ جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ مومنوں کے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ سب کے سب تبلیغ اور تربیت کے لئے نکل کھڑے ہوں یعنی تمام مومن اپنے سارے دوسرے کام چھوڑ دیں اور کلیہ اس روحانی جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوں اور ہر طرف دعوت الی اللہ کا کام اس طرح کریں کہ گویا ہر دوسرا کام چھوڑ دیا گیا ہے۔فرمایا یہ ممکن نہیں ہے لیکن یہ ممکن نہیں تو کچھ تو ممکن ہے وہ کیا ہے۔فرمایا: فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ان میں سے ہر گروہ میں کوئی نہ کوئی طایفة یعنی ایک جماعت چھوٹی سی ، وہ مدینے یعنی مرکز میں پہنچتی ليَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ تا کہ دین سیکھیں وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ یہاں اگر چہ مدینہ پہنچنے کا ذکر نہیں ہے مگر یہ مفہوم میں داخل ہے۔چنانچہ اس آیت کا آخری حصہ اس کی وضاحت فرما رہا ہے پھر وہ واپس لوٹیں تو دین سیکھنے کا مرکز تو وہی تھا جہاں حضرت اقدس محمد مصطفی اعتے تھے اس لئے چونکہ یہ بات مفہوم میں داخل ہے اسے واضح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔تو لفظاً یوں بنے گا کہ کیوں ایسا نہ ہوا کہ مومن تمام کے تمام نکل کھڑے ہوتے۔فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمُ پس ایسا کیوں نہ ہوا یا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان میں سے ہر ایک جماعت میں سے فرقہ سے مراد یہاں مذہبی فرقہ نہیں ہے بلکہ قومی فرقہ یا مختلف علاقوں کے رہنے والوں کو جو فرقہ فرقہ بٹے ہوئے ایک جگہ رہتے ہیں یعنی آپس میں تو اکٹھے رہتے ہیں مگر ساری امت مسلمہ یکجا نہیں ہوتی بلکہ مختلف حصوں میں بٹ کر رہتی ہے تو یہاں فرقے سے یہ مراد ہے تو مختلف علاقوں کے رہنے والے مختلف قوموں کے رہنے والے ان قوموں سے تعلق رکھنے والے کیوں نہ نکلیں کہ وہ دین کا علم حاصل کریں۔تفقہ میں صرف علم نہیں بلکہ اس کا فہم، اس کا ادراک جس حد تک ممکن ہو اور اس کے ساتھ ساتھ تفقہ میں اس کی حکمتیں پانا بھی شامل ہے۔تو اس طرح علم سیکھیں کہ اس کی حکمتوں سے واقف ہوں، اس کے فلسفہ سے آگاہ ہو جائیں۔جب اس طرح تیار ہو جائیں تو پھر وہ واپس لوٹیں وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ تا کہ وہ اپنی اپنی قوموں کو ڈرائیں۔اِذَارَ جَعُوا جب وہ واپس جائیں تو واپس کہاں سے جائیں۔کہیں سے آئے تھے تو واپس جائیں گے۔تو مراد یہ ہے کہ سب علاقوں سے ایسے دینی مراکز میں لوگوں کا اکٹھے ہونا ضروری ہے جہاں دین کی تعلیم دی جاتی ہے، دین کی حکمتیں سکھائی جاتی ہیں ، مسائل سے تفصیل کے