خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 607
خطبات طاہر جلد 13 607 خطبه جمعه فرمودہ 12 راگست 1994ء ان کا نکاح ہے اور آپ کو علم ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ان کی اہلیہ چھوٹی عمر میں ہی وفات پاگئیں یعنی بہت چھوٹی عمر تو نہیں تھی مگر جو عام دنیا کی عمریں ہیں ان کے لحاظ سے چھوٹی عمر ہی تھی۔غیر معمولی اخلاص رکھنے والی اور انسانی صفات حسنہ سے مزین بہت ہی پیارا وجود تھا۔ان کی وفات کے بعد اس گھر میں ایک خلا پیدا ہوا ہے۔پہلے تو مجھے دور سے دکھائی دیا کرتا تھا مگر اب جب میں کینیڈا گیا ہوں تو میں نے بڑی سختی سے اپنے دل میں یہ محسوس کیا اور یہ خلا ان کی خوبیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔وہ خوبیاں ایسی ہیں کہ ایک خاوندان خوبیوں کو بھلا کر ایک شادی کرنے کے لئے طبعا اپنے آپ کو آمادہ ہی نہیں پاتا اور ضرورتیں ایسی ہیں جو ہر روز تقاضا کر رہی ہیں۔وہاں عورتیں ہیں ان کے حقوق ادا کرنے ہیں۔بچی چھوٹی ہے چھوٹے بچے ہیں وہ کس طرح از خود گھر کو سنبھال سکتے ہیں۔نتیجہ بعض عورتوں نے از راہ ترحم ان کے کھانے پکانے شروع کئے ان کو ڈیپ فریز کرنا شروع کیا جس نے مجھے اور بھی تکلیف دی۔امیر کی شان یہ نہیں ہے کہ اس پر رحم کے طور پر اس کے ساتھ کوئی ایسے سلوک کئے جائیں۔امیر تو خود محسن ہے ان کا جذ بہ تو خدمت ہی کا ہوگا مجھے پتا ہے لیکن جو باتیں ان کے متعلق ہوتی تھیں تو بعض لوگ اس طرح ہی بیان کرتے تھے جیسے بعض عورتیں بے چاری بڑا رحم کھا کے تو اتنی قربانیاں کر کے آتی ہیں تو میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ مانیں یا نہ مانیں ان کی شادی ضرور کروانی ہے۔چنانچہ لاکھ انہوں نے انکار کیا کہ میرے حالات ایسے ہیں آپ کو پتا ہی ہے۔میں نے کہا مجھے سب پتا ہے مگر شادی میں نے کروا دینی ہے تو چونکہ بہت ہی مخلص اور فدائی ہیں نہ کا مادہ ہی نہیں ان میں۔اس لئے وہ اصرار، مجبوری پیش کر رہے تھے اور مجھے پتا تھا بات ماننی ہے۔ایک اور ایسا خاندان ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے انکار کا خمیر ہی نہیں ہے وہ حضرت مولوی شریف احمد صاحب مرحوم و مغفور مبلغ سلسلہ کا خاندان ہے۔تو میں نے کہا ان دونوں کے مزاج ایسے ہیں کہ دونوں کا رشتہ آپس میں ہونا چاہئے اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ رشتہ دین و دنیا میں ہر لحاظ سے بابرکت ثابت ہوگا۔چنانچہ فون پر پھر میں نے بچی سے بھی اجازت لی اور وہ بھی چند باتوں میں ہی سمجھ گئی۔اس نے کہا ٹھیک ہے جو آپ کا فیصلہ ہے وہ ہم سب کا فیصلہ ہے تو ان کے نکاح کا کچھ تعارف تو میں نے کروا دیا ہے اب مختصر نکاح انشاء اللہ نماز جمعہ کے بعد کروایا جائے گا۔اس نکاح کے ساتھ ایک اور نکاح بھی ہو جائے گا اور ان کے طفیل ان کو بھی فیض مل گیا۔وہ