خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 55
خطبات طاہر جلد 13 55 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1994ء محسوس کرنے کی صلاحیتیں آپ کو عطا کریں گے اور ان لذتوں سے پھر آپ کی روحانی نشوونما کا سلسلہ شروع ہوگا اور بالآخر جب یہ لذتوں کا حصول اپنے کمال کے درجے تک پہنچے گا تو آخری لذت آپ کو سوائے رب کے کسی چیز میں نظر نہیں آئے گی۔یہ ہے ذکر الہی جس کی طرف میں آپ کو بلا رہا ہوں۔جس کی طرف قرآن آپ کو بلاتا ہے۔جس کے اسلوب اور انداز ہمیں خود اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی عملے کے دل پر نازل ہونے والے نور میں بیان فرمائے اور روشن کئے۔جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات میں جلوہ گر ہوا یہ وہ ذکر الہی ہے جو وہ آپ کی روحانی تخلیق کرتا ہے اور آپ خلق آخر میں داخل ہو جاتے ہیں جب دوبارہ پیدا ہو جاتے ہیں۔اس مضمون کے بعد جو میرا خیال تھا کہ نیا مضمون شروع کروں گا۔اب اس کا وقت تو نہیں رہا اس لئے میں ایک دو اور امور کے متعلق اعلان کر کے اس خطبے کو ختم کرتا ہوں۔سب سے پہلے یہ کہ کچھ غم کی خبریں آئی ہیں۔جن کا تعلق إِنَّا لِلہ کے مضمون سے ہے۔سب سے پہلے مکرم میاں عبد الحئی صاحب کی وفات کی اطلاع ملی ہے۔یہ مبلغ انڈونیشیا تقریباً 25 سال تک انڈونیشیا میں خدمت دین سرانجام دیتے رہے۔اس لئے عموما ان کا تعارف مبلغ انڈونیشیا کے طور پر ہی کرایا جاتا ہے اور جہاں تک خدمت دین کا تعلق ہے۔یہ ایک لمبا عرصہ ہے۔55 سال تک یہ واقف زندگی کے طور پر مختلف مناصب پر خدمت دین سرانجام دیتے رہے۔نہایت میٹھا مزاج تھا بہت ہی طبیعت کے اندر نرمی اور رفق پایا جاتا تھا شفقت تھی دوستوں کے ساتھ ، اچھے دوست مسکرانے والے اچھی باتوں پر بننے والے بری بات کہو تو خاموش ہو کر الگ ہو جانے والے، اس قسم کا مزاج تھا جو ایک نظر دیکھنے میں ہی ایک پاکیزہ مزاج دکھائی دیتا ہے۔صاف ستھرا، پاکیزہ مزاج اور خدمت بھی بے لوث کی اور مسلسل کی ہے۔ہر حالت میں کی ہے سخت بیماری کی حالت میں بھی جبکہ کینسر کے مریض تھے تب بھی آپ خدا کے فضل کے ساتھ خدمت دین کو اس طرح سرانجام دیتے رہے جیسے آپ کا عزیز ترین کوئی مشغلہ ہو جس کے بغیر آپ کو لطف نہ آئے زندگی کا۔بیماری کی حالت میں بھی میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے مجھے بھی جو خط لکھے ان میں یہی تھا کہ دعا کریں مجھے اور خدا تعالیٰ خدمت دین کی توفیق بخشے۔ان کے متعلق مزید معلومات یہ ہیں کہ 1920ء میں 28 فروری 1920 ء کو قادیان میں