خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 599
خطبات طاہر جلد 13 599 خطبہ جمعہ فرمودہ 12 /اگست 1994ء آپ کے مہینے خرچ ہو جائیں گے۔قادیان جب گیا تھا تو وہاں بعض لوگوں نے بڑی لجاجت سے اور بڑے، بے حد اخلاص سے کہا کہ ہمارے گھر میں ایک دفعہ قدم رکھ جائیں اور کہا تو یہی جاتا ہے کہ قدم رکھ جائیں۔وہاں جائیں تو وہاں چائے بھی تیار ہوتی ہے یا کوئی پھل جو کچھ تو فیق ہو یا کوئی دودھ کا گلاس لئے بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ ایک گھونٹ اور آپ ایک گھونٹ بھر کر باہر نکلتے ہیں تو آگے لائن لگی ہوتی ہے کہ ہمارا گھر بھی ساتھ ہی ہے وہاں تشریف لے آئیں۔جب میں نے ایک سلسلہ شروع کیا تو پھر باقی وقت قادیان میں میرا اسی طرح گھروں میں ہی پھرتے ہوئے گزر گیا، ان کی دلداری کی تو توفیق مل گئی لیکن بہت سے ایسے اہم کام تھے جن کی طرف توجہ دینا ضروری تھا جو توجہ سے محروم رہ گئے۔بہت سے ایسے غیر تھے ملنے والے جن کی درخواستیں دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملا اور یہاں آ کر پتا چلا کہ وہ جماعت کے لئے بہت اہمیت رکھتے تھے۔اہل قادیان کے مفاد میں تھا کہ ان سے ملتا، ان سے کھل کر گفتگو کرتا لیکن جب واپس آیا تو پھر ڈاک دیکھی تو پتا چلا کہ وہ درخواستیں پڑی رہ گئی ہیں۔بعضوں کے شکوے بعد میں آنے شروع ہو گئے۔تو ہر چیز کو موقع اور محل کے مطابق دیکھنا چاہئے۔اس حدیث کا جو میں مطلب سمجھتا ہوں وہ اس حدیث سے ہی نہیں بلکہ دوسری حدیثوں کے حوالے سے ان کی روشنی میں ان کو جانچ کر سمجھا ہوں۔وہ یہ ہے کہ ایک جگہ فرمایا کہ خواہ ایک بکری کے پائے کی دعوت ہی کیوں نہ ہو اور بعض اور جگہ ایسی باتیں بیان فرمائیں جس سے پتا چلتا ہے کہ از راہ تکبر اپنے غریب بھائی کی دعوت رد کرنا ایک گناہ ہے اور اس کی دل شکنی کا موجب ہوتا ہے۔پس کوئی ایسی دعوت رد نہ کرو جس میں تمہاری نیت میں کوئی ایسا ادنی سا بھی فتور ہو کہ تم اپنی بڑائی کی وجہ سے رد کر رہے ہو یا کسی کی غربت کی وجہ سے رد کر رہے ہو۔یہی مفہوم ہے جس کے مطابق تمام حدیثیں ایک دوسرے سے مطابقت کھا رہی ہیں ورنہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ عملاً لفظاً لفظاً بعض لوگ اس حدیث پر عمل کریں کیونکہ بعض لوگوں کے تعلقات کے دائرے اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ ان کے لئے ہر دعوت کو ظاہر اقبول کرنا ممکن نہیں ہوتا مگر دعوت کو ایک اور رنگ میں بھی قبول کیا جا سکتا ہے۔اسی محبت اور اخلاص سے ان کے شکریے ادا کئے جائیں، ان سے معذرتیں کی جائیں یہاں تک کہ وہ معذرتیں قبول کر لیں۔یہ بھی ایک دعوت