خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 598
خطبات طاہر جلد 13 598 خطبه جمعه فرمود و 12 اگست 1994ء مضمون ہے اس کو ایک حدیث میں مزید کھول دیا گیا ہے۔بعض دفعہ انسان کے پاس کچھ بھی دینے کے لئے نہیں ہوتا۔یا اتنا تھوڑا ہے کہ اس شخص سے زائد حق دار اس کے موجود ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سختی سے انکار نہیں کرنا بلکہ اس کے حق میں کلمہ خیر کہنا ہے اور دعا کے ذریعے اس کی مدد ہونی چاہئے۔کلمہ خیر جب کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے نرمی کا سلوک کرو۔اس کو دعا دو۔پس دعا بھی ایک طاقت ہے اور اگر ان معنوں میں آپ دعا دیں کہ اور کچھ نہیں تو چلو دعا ہی دے دو تو بالکل غلط ہے۔اس وقت یہ یقین رکھتے ہوئے کہ چونکہ میرے پاس کچھ نہیں ہے اور میں عملاً اس قربانی میں شامل نہیں ہو سکتا اس لئے میں اپنے عطا کرنے والے سے مانگتا ہوں کہ تو اس کو عطا فرما دے۔اس صورت میں یہ دعا قبول ہو گی کہ اگر انسان کی عادت ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس میں اپنے غریب بھائیوں کا حصہ نکالنے کی دیانتداری سے کوشش کرتا ہے اور جو کرتا ہے وہ دیکھے گا اور ضرور دیکھے گا کہ اللہ تعالیٰ صرف اس کو ہی عطا نہیں کرے گا جو مانگنے آیا تھا اس کو بھی بہت عطا کرے گا اور اس میں قطعاً کوئی شک نہیں ہے۔تمام وہ لوگ جوان را ہوں پر چلنے والے ہیں وہ گواہ ہیں ، سب دنیا میں ایسے احمدی گواہ ہیں اور بسا اوقات مجھے خطوں کے ذریعے اپنے تجربے بھی لکھتے ہیں کہ خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے لئے تیار رہنا خواہ قربانی کی توفیق نہ بھی ملے ایک اتنا مقبول عمل ہے کہ خدا کی نظر میں اتنا پسندیدہ ہے کہ اس نہ کی ہوئی قربانی کو بھی اللہ قبول فرما لیتا ہے اور جزا اسی طرح دیتا ہے جیسے قربانی ہوگئی اور اس کو ہی نہیں جس کے حق میں دعا کی گئی ہے اس کو بھی جزا دیتا ہے جس نے دعا کی ہو۔پھر آپ نے فرمایا جو شخص دعوت کے لئے بلاتا ہے اس کی دعوت قبول کرو۔(مسلم کتاب النکاح) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں ان کی روشنی میں اس کو سمجھنا چاہئے ورنہ یہ تو ناممکن ہے کہ ایک مثلاً اپنی مثال دیتا ہوں مجھے جو دوست یہاں دعوت پر بلاتے ہیں میں ان سے منتیں کرتا ہوں بعض دفعہ کہ خدا کے لئے نہ بلا ؤ اگر ایک دفعہ میں نے رستہ کھول دیا تو اس کو بند نہیں کیا جا سکے گا اور بہت شاذ کے طور پر اپنے دل میں ان کے بعض استحقاقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعض کے حق میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔لیکن اگر یہ سلسلہ ہو تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اب میں جرمنی جاؤں گا وہاں ہزاروں گھر ایسے ہیں جو کہیں گے ہمارے گھر ضرور آؤ اور چند منٹ کے لئے بھی جائیں تو