خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 54
خطبات طاہر جلد 13 54 خطبه جمعه فرمودہ 21 جنوری 1994 ء زندگی کی ساری کہانی اس مضمون کی صداقت پر گواہ بن چکی ہو۔ محض حرفوں اور لفظوں میں یہ بات نہ کہی جائے بلکہ ساری زندگی کے مضمون اس کے پیچھے اس کا گواہ بن کے کھڑا ہو۔ جس طرح حضرت کی زندگی کا خلاصہ یہ تھا کہ اَللّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَی اے میرے اللہ میں تیری محمد مصطف اصلى الله الله ذات میں لوٹنا چاہتا ہوں ۔ پس یہ قطرہ جس کا سفر ایک لامتناہی سمندر سے شروع ہوا تھا جب شعور کی منازل طے کرنے کے بعد عشق کی منازل طے کرتا ہوا واپس اپنے مرجع کے طرف لوٹنے کی تمنا رکھتا ہے۔ یہ وہ مضمون ہے جو پھر اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کی کامل تصویر بن کر ہمیں اپنے خدا کی طرف لے جاتا ہے اور یہ واپس لوٹنا دراصل اعلیٰ جنت ہے۔ فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: 30 تا (31) اس جنت کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی گئی۔ جو نسبتا کم درجہ کی جنتیں ہیں ان کے اندر آپ باغوں کے ذکر پڑھیں گے ، پھلوں کے ذکر پڑھیں گے، بڑے بڑے باغوں کے قصے ہوں گے۔ جنت میں نہریں بہہ رہی ہوں گی لیکن ایک اعلیٰ جنت ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی جنت اور آپ کی غلامی میں پیدا ہونے والے عباد کی جنت ہے۔ اس کی تفصیل خدا نے کوئی بیان نہیں فرمائی کیونکہ وہ ایک ایسی اعلیٰ جنت ہے جس کی کوئی تمثیل ہی نہیں ہے۔ فرماتا ہے میں آواز دوں گا ان لوگوں کو جو میری طرف آ رہے ہوں گے۔ لأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر: 28 تا 29) اے وہ نفس جو مجھ سے مطمئن ہو گیا ہے۔ جو ساری زندگی کے سفر کے بعد بالآخر اس نتیجے پر پہنچا ہے۔ کہ میرا اطمینان، میرا سکون خالصہ اللہ ہی میں ہے اور کوئی چیز نہیں ہے۔ جو مجھے کامل طمانیت بخش سکے۔ يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّلِ تو تھک گیا ہے لمبے سفر سے ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ اپنے رب کی طرف اب لوٹ آ ، فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِی پس میرے عباد میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا، اب باقی جنتیں چاہے کیسی دلکش اور حسین دکھائی دیں، کیسی کیسی تفصیل ان کی نظر آئے ، مگر جو میری جنت اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ یہ کوئی اور ہی چیز ہے اور یہ ہی وہ جنت ہے جو رفیق اعلیٰ کی جنت ہے۔ پس اس عظیم سفر کی تیاری کریں اور اپنی جنتیں خود بنائیں اور یہ جنتیں ذکر الہی سے بنیں گی ۔ ذکر الہی مختلف پھل بن کر آپ کے سامنے متمثل ہوگا ۔ ذکر الہی سے جو پھل پھوٹیں گے وہ کچھ لذتیں