خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 574
خطبات طاہر جلد 13 574 خطبه جمعه فرمود و 5 را گست 1994ء تھے ہم نے ہاتھ روکے ہوئے ہیں۔قومی روایات کی خاطر، قبائلی تعلقات کی خاطر اور کچھ رسم ورواج ہیں پرانے جو چلے آرہے ہیں ، وہ یہی سمجھا کرتے تھے کہ ہم نے ہاتھ روکے ہوئے ہیں مگر جب ہاتھ چلانے کا فیصلہ کیا تو دیکھیں خدا نے کیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو ان کے ہر پھندے سے آزاد فرمایا ! ان کی ہر سازش کو نا کام بنا دیا۔ان کا ہاتھ آپ تک پہنچتے پہنچتے بھی ایسا بے کار ہو گیا جیسے شل ہو گیا ہو۔وہ غار ثور کا واقعہ ہمیشہ کے لئے ایک معجزے کے طور پر انسانی تاریخ میں چمکتا رہے گا اور کوئی اس کا عقلی جواز انسان کو سمجھ نہیں آ سکتا کہ یہ ہو کیسے گیا ہے اور اگر یہ ہونہ چکا ہوتا اور تاریخ کا حصہ نہ بن چکا ہوتا تو دنیا کے لوگ کبھی مانتے نہ کہ ایسا واقعہ ممکن ہے۔یعنی ریگستان میں جہاں دور دراز تک کوئی چھپنے کی جگہ نہیں صحرا کھلا ہوا پڑا ہے جس پر قدموں کے نشان ایک دفعہ پڑ جائیں جب تک آندھیاں نہ آئیں وہ نشانات اسی طرح ثابت رہتے ہیں کوئی چیز ان کو مٹاتی نہیں۔ایسے ہی ایک خاموش دن میں آنحضرت ﷺ مدینے کی طرف ہجرت فرما رہے ہیں اور ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے اس پر چڑھ کر غار ثور میں پناہ ڈھونڈتے ہیں اور مشہور کھوج لگانے والے آپ کے دشمنوں کے ساتھ جو تعاقب کر رہے تھے ساتھ ساتھ چلے آ رہے تھے بلکہ راہنمائی کر رہے تھے اور ایسی صورت میں انہوں نے کہا یہ پہاڑی ہے اس پر وہ چڑھے ہیں۔تو سب او پر چڑھ گئے وہاں ایک غار کے سوا کوئی چھپنے کی جگہ نہیں تھی۔غار پر اس طرح کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ ان کے پاؤں نیچے سے دکھائی دے رہے تھے اور اس عرصے میں ایک مکڑی نے جالا بن دیا اور کہا جاتا ہے کبوتری نے یا کسی پرندے نے اس پر انڈا دے دیا۔یہ چھوٹا سا واقعہ ہوا ہے اور وہ گھر جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر ہے یعنی جالا ، وہ دنیا کے سب گھروں سے زیادہ طاقتور بن گیا جب خدا کا اذن آیا اور دشمن کو توفیق نہ ملی کہ اس نازک ترین گھر کو پار کر کے وہ جو پیچھے پناہ گزیں تھا اس کو گزند پہنچا سکے۔یہ ایک بہت ہی عظیم الشان واقعہ ہوا ہے ایسے شخص سے اس کمزوری کی حالت میں خدا نے وعدے فرمائے اور کچھ وعدے ایسے تھے جو آپ کے دیکھتے دیکھتے آپ کی زندگی میں بڑی شان سے پورے ہوئے۔میں غار حرا کہہ رہا تھا۔یہ غار ثور ہے غار حرا میں آنحضرت معہ عبادتیں کیا کرتے تھے نا وہیں سے نبوت کا آغاز ہوا ہے تو لفظ حرا میرے ذہن پہ اتنا حاوی رہا ہے کہ پہلے بھی میں ایسے کر چکا