خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 573

خطبات طاہر جلد 13 573 خطبه جمعه فرموده 5 راگست 1994 ء تعلق رکھنے والے اس ایک عالمی وجود کا ایک حصہ بن چکے تھے۔حصہ تو تھے لیکن جس شان سے خدا نے ایک وجود کے حصے کے طور پر ان کو دکھایا ہے یہ ایک ایسی کیفیت تھی جس کے لئے نشے کے سوا کوئی لفظ مجھے ملتا نہیں اور دیر تک نشے کی کیفیت رہی۔میری بیٹی نے مجھ سے پوچھا کہ ابا کیا حال ہے۔میں نے کہا میں تو اس وقت بتا بھی نہیں سکتا کہ کیا حال ہے۔اس نے کہا میرا بھی یہی حال ہے لیکن بات یہ ہے کہ اللہ میاں نے اتنی زیادہ خوشیاں ایک دن میں اکٹھی کر دیں کہ ان کے پوری طرح شعور کی طاقت نہیں رہی تھی اس لئے میں نے تو فیصلہ کیا ہے کہ اب باری باری ایک ایک حصے کو سوچ کے سارا دن اسی کے مزے لوں گی اور یہ بات بہت اچھی تھی اور میرے دل کو بھی لگی۔میں نے بھی یہی سوچا یہی ایک طریق ہے جب بہت زیادہ چیزیں اکٹھی ہو جائیں تو انسان پھر بعد میں تسلی سے مزے لیتا ہے اور یہ تو ایسا دن گزرا ہے اور جلسہ بحیثیت مجموعی اول سے آخر تک کہ سارا سال مزے لینے کے لئے سامان اکٹھے ہو گئے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگلے سال انشاء اللہ اس سے بھی زیادہ مزے کے سامان پیدا ہوں گے کیونکہ ہر دفعہ جب ہم کوشش کرتے ہیں کہ بہت اچھی باتیں پیدا ہوں ان سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کچھ اور باتیں دکھا دیتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ تمہارے صرف ہاتھ لگ رہے ہیں اس قافلے کو حرکت اللہ دے رہا ہے اور تمہارے ہاتھ لگوا دیتا ہے کہ تمہیں بھی محسوس ہو کہ کچھ تمہارا بھی حصہ پڑ گیا۔اور اللہ کے فضل کے ساتھ اس عالمی برادری کے انعقاد میں جو بنیادی بات کارفرما ہے اس کو بھولنا نہیں چاہئے اور وہ ہے حضرت اقدس محمد مصطفی حملے کی دعائیں اور اللہ کا آپ سے وعدہ۔پس اگر ہم اس حقیقت کو بھلا دیں اور محض مزے میں پڑے رہیں تو وہ مزہ بالکل بے کار اور بے معنی ہو جائے گا۔اس مزے کا جس بنیادی حقیقت اور سچائی سے تعلق ہے اس کے واسطے سے مزے لوٹیں تو اور ہی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔کہاں وہ دن ، چودہ سو سال پہلے عرب میں ایک عظیم معجزہ رونما ہوا یعنی حضرت محمد مصطفی ﷺ یکہ و تنہا آپ کو تمام دنیا پر غالب آنے کی خوشخبریاں دی گئیں۔اس وقت جب آپ یکہ و تنہا تھے اور تمام دنیا کی فتوحات کے ذکر اس زمانے میں حیرت انگیز لگتے ہوں گے۔وہ وجود جو مکے میں بھی اس طرح بدسلوکی کا شکار رہا، ایسی ظالمانہ بد سلوکیوں کا شکار رہا کہ عرب سمجھتے تھے کہ جب چاہو ایک چٹکی کے مسلنے کی طرح اس شخص کو ہم ہلاک کر سکتے ہیں اور اگر نہیں کرتے تھے تو سمجھتے