خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 567 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 567

خطبات طاہر جلد 13 567 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء یہ واقعہ غزوہ بنی مطلق سے واپسی پر ہوا تھا، ایک چشمے پر پانی کی باری کے انتظار میں انصار اور مہاجرین کا ایک جھگڑا ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں عبداللہ بن ابی بن سلول نے فائدہ اٹھاتے ہوئے انصار کو جو مدینے کے رہنے والے تھے مہاجرین کے خلاف کرنے کے لئے اور یہ سمجھ کر کہ آج میرا موقع ہے آج میں اپنی ساری گزشتہ رسوائیوں کا بدلہ اتار لوں گا ، یہ بد بخت اعلان کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں کیا ہوا۔؟ سیرت ابن ہشام میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ اسی طرح در منشور للسیوطی، میں بھی اس بات کا حوالہ ہے کہ قرآن کریم نے جس واقعہ کا حوالہ دیا ہے اس کی تفصیل کیا ہے میں اس کی بات کر رہا ہوں۔ ان سیرت کی کتب میں اس کی تفصیل یہ ملتی ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ حرکت کی تو صحابہ کو بہت طیش آیا مگر کسی صحابی نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا بظاہر ان اہر ان کو یہ یقین تھا کہ یہ شخص واجب القتل ہو چکا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک کے بعد دوسرا گیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ ہمیں اجازت دیں ہم اس بد بخت شخص کا سرتن سے جدا کر دیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کسی کو اجازت نہیں دی یہاں تک کہ اس کا اپنا بیٹا جو منافق نہیں تھا بلکہ مخلص مسلمان تھا وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہوسکتا ہے۔ آپ اس لئے اجازت نہ دیتے ہوں کہ آپ کو خیال ہو کہ میرا باپ ہے ! صلى الله بعد میں کسی وقت قتل کرنے والے کے خلاف میرے دل میں غصہ نہ پیدا ہو جائے تو یا رسول اللہ ارسول الله الله اس کا حل تو یہ ہے کہ میں بھی تو مسلمان ہوں میری بھی تو غیرت کھول رہی ہے۔ مجھے اجازت دیں کہ میری د میں اپنے ہاتھ سے اپنے باپ کا سرتن سے جدا کروں، اپنے ہاتھ سے اپنے باپ کو قتل کروں ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کی تمہیں کوئی اجازت نہیں ۔ یہ ہتک رسول کا واقعہ قرآن میں درج ہے اس سے زیادہ قوی کوئی حدیث ایسی پیش کر سکتا ہے کوئی ملاں؟ جس میں ہتک رسول کا مضمون اس طرح بیان ہوا ہو اور پھر قرآن کے معانی کے خلاف مضمون ہو؟ اگر ہو گا تو وہ قوی ہو ہی نہیں سکتا۔ ہر وہ حدیث جو قرآن کریم کے واضح بیانات سے ٹکراتی ہے وہ ٹکرا کر پارہ پارہ ہو جائے گی کیونکہ وہ حدیث ہی نہیں ہے۔ اس لئے مولوی جب ان آیات کو پڑھتے ہیں اور پھر حدیثوں میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں یہ دو گستاخیاں کرتے ہیں۔ اول یہ کہ قرآن سے اعتبار اٹھاتے ہیں اور حدیث کی طرف دوڑاتے ہیں اور پھر حدیث سے