خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 566
خطبات طاہر جلد 13 566 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء صلى الله۔ليُؤْمِنُنَّ بِھا اگر وہ ایک بھی محمد رسول اللہ یہ آیت لادیں تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ (الانعام: 110) اللہ کے پاس تو بے شمار آیات ہیں مگر کیسے تمہیں سمجھا دیں کہ جھوٹے ہیں بد بخت ساری آیات بھی آجائیں تب بھی یہ نہیں مانیں گے، پہلے تھوڑی آیات ہیں جن کا انکار کر بیٹھے ہیں اور کون سی آیت ان کو منوالے گی۔تو ان کا سلوک تھا انبیاء سے، یہ سلوک حضرت اقدس محمد ﷺ کے ساتھ تھا اور پھر یہ کہ تیری باتیں سنے کی ٹوہ رکھتے ہیں اور جب تو ان سے باتیں کرتا ہے تو پھر نظر انداز کر دیتے ہیں بے عزتی کرتے صلى الله ہیں گویا ان کے کانوں میں بوجھ پڑ گیا ہے یہ سارے طریق انہوں نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور آپ کی تکذیب کے اور آپ کی تذلیل کے اختیار کئے لیکن آنحضرت ﷺ نے کہیں اس کے جواب میں سوائے اس کے کہ ان کو ہدایت کی دعائیں دی ہوں ان کے خلاف کوئی بدنی کارروائی نہیں فرمائی نہ آپ کو اس کی تعلیم دی گئی جہاں تک معین تذلیل کا تعلق ہے، جہاں تک ایک معین واقعہ تضحیک کا تعلق ہے اس سورۃ میں وہ آخر پر بیان ہوا ہے جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی۔وہ آیت یہ ہے: يَقُولُونَ لَبِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَ الْاَعَزُّ مِنْهَا الاذل سورة المنافقون میں جن منافقوں کا ذکر ہے ان کے سردار کی بات اب ہو رہی ہے اور اس کا معین ہونا اتنا قطعی ہے کہ کوئی ادنی سا بھی شعور رکھنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی Identity نہیں ہے۔لوگ جانتے نہیں تھے کہ یہ کون ہے۔فرمایا يَقُولُونَ لَبِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ وہ منافقین یہ اعلان کر رہے تھے کہ جب ہم مدینے واپس لوٹیں گے تو وہاں کا سب سے معزز انسان یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول مدینے سے وہاں کے سب سے ذلیل انسان کو نکال باہر کرے گا۔اس سے بڑی گستاخی رسول کا تصور بھی ممکن نہیں، ایسے خبیث الفاظ میں ایک انسان صحابہ کے سامنے کھلم کھلا یہ اعلان کرتا پھرے اور اس کے ساتھی اس بات کو شہرت دے رہے ہوں۔وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِے اور حال یہ ہے کہ تمام عزت اللہ کی اور اس کے رسول کی ہے اور انہی کے واسطے سے مومنین کو نصیب ہے وَلكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ لیکن منافقین جو ہیں وہ نہیں جانتے۔