خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 557
خطبات طاہر جلد 13 557 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء رہا ہوں مساجد سے اعلان کیا گیا اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ تھانے پہنچ جائیں اور پولیس سے چھڑا کر اس شخص کو خود سزا دیں۔مساجد سے ہی قتل کا فتویٰ جاری کیا گیا، ہزاروں لوگوں نے تھانے پر حملہ کیا اسے سنگسار کرنے کے لئے پولیس سے زبردستی چھڑوا لیا اور ننگا کر کے، (یہ قرآنی تعلیم پر عمل ہو رہا ہے ) ننگا کر کے سنگسار کرنا شروع کیا۔وہ اللہ کے واسطے دیتا رہا کہ سب جھوٹ ہے میں قرآن کی عزت کرنے والا ہوں اور کسی نے اس کی بات کو نہ سنا۔وہ حافظ قرآن تھا جس کے اوپر یہ الزام لگایا جارہا ہے۔اس کے بعد اس کی نعش کو جلایا گیا اور جلی ہوئی نعش کو موٹر سائیکل کے پیچھے باندھ کر شہر کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر اس جلی ہوئی گھسیٹی ہوئی نعش پر سنگ باری کی گئی۔آخر پولیس نے مسخ شدہ لاش حاصل کی اور پولیس کے اہل کارا سے رات کے اندھیرے میں لے کر قبرستان میانی صاحب میں دفن کر آئے۔یہ ایک اور دلچسپ بات ہے۔احمدی اگر ان کے قبرستان میں دفن ہو جائے تو ان کے سارے جو مدفون ہیں ان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہیں خدا ان کو بھی جہنم میں نہ ڈال دے کہ احمدی کیوں پاس دفن ہو گیا۔وہ شخص اگر واقعی ایسا مردود تھا کہ اس نے قرآن کریم کی ہتک کی تھی تو قطع نظر اس کے کہ قرآن کیا کہتا ہے ان کے نزدیک اس سلوک کے لائق تھا جو اس سے کیا گیا ہے اور وہ میانی صاحب کے قبرستان میں دفن ہے کسی اور مردے کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔مگر یہ تو ضمنی بات ہے۔یہ وہ ظالمانہ کردار ہے جس کو حضرت اقدس محمد ﷺ کی طرف ، قرآن کی طرف منسوب کرنا اتنی بڑی گستاخی ہے کہ اگر کسی گستاخی کی کوئی سزا ہے تو اس گستاخی کی سزا ہونی چاہئے۔قرآن تو سزا نہیں پیش کرتا ، حدیث سے تو کوئی سزا ثابت نہیں لیکن جن لوگوں کے نزدیک ہے انہوں نے مولویوں کا منہ کیوں کالا نہیں کیا؟ کیوں ان کو نہیں پکڑا ، کہ تم نے بڑی بد بختی کی ہے، انصاف کے سارے تقاضے بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کو پارہ پارہ کرتے ہوئے تم نے قرآن کی طرف غلط تعلیم منسوب کی۔محمد رسول اللہ ﷺ کے کردار کی طرف غلط تعلیم منسوب کی اور پھر اپنی طرف سے خود ہی منصف اور خود ہی عادل بن بیٹھے اور فیصلہ وہ کیا جس کا عدل سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔جن ملکوں میں یہ خوفناک مزاج پیدا کیا جا رہا ہے اس کی پہچان اس سے بڑھ کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ کوئی مولوی، بد بخت سے بد بخت مولوی اگر اس کو کہا جائے کہ خدا کی قسم کھا کے یہ اعلان کرو کہ میرے نزدیک حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت میں ایسا واقعہ ہوتا تو محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی یہ