خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 556 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 556

خطبات طاہر جلد 13 556 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء تقاضا، تقویٰ کا تقاضا یہ تھا کہ اگر ایک مضمون کو چھیڑا گیا ہے اور اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں موجود ہیں تو ان کو نظر انداز کر کے تم کوئی استدلال کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ان کو لو، اکٹھا کرو، پھر دیکھو کہ قرآن کریم کی کھلی کھلی محکمات کیا تعلیم دے رہی ہیں اور کیا بات تم پر کھول رہی ہیں۔اس کے خلاف جو کچھ بھی ہے وہ رڈ کرنے کے لائق ہے۔جو تعلیم آج مسلمان ملکوں میں بعض ازمنہ وسطی سے تعلق رکھنے والے علماء کی طرف سے دی جارہی ہے اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا مزاج بگاڑا جارہا ہے اور ایسا خوفناک مزاج ان کو عطا کیا جا رہا ہے جن کا اسلام سے کوئی بھی تعلق نہیں۔وہ صرف گستاخی ہی کے مرتکب نہیں بلکہ سارے عالم میں اسلام کی بدنامی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ایسے دو غلے ہیں کہ جب مغربی ملکوں میں آتے ہیں تو اور تعلیمیں دلاتے ہیں۔کہتے ہیں اسلام تو بڑے حوصلے کا مذہب ہے سب سے برابر کا سلوک کرتا ہے ہ شخص کے خواہ وہ کافر ہو، خواہ وہ مومن ہو ، حقوق سب برابر ہیں، یہاں تک کہ مولوی انگلستان میں یہ اعلان کرتے رہے کہ ہمارے اور احمدیوں کے ہمارے ملک میں حقوق بالکل برابر ہیں کوئی بھی فرق نہیں اور عیسائیوں کو کوئی خطرہ نہیں، ہندوؤں کو کوئی خطرہ نہیں۔یہ غیر ملکوں کے اعلانات ہیں اور اپنے ملک میں جو اعلانات ہوتے ہیں وہ کیا ہیں اور کیا کردار بنا رہے ہیں؟ اس کی مثال یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہتک کے الزام میں ایک شخص کو عدالت میں پیش کئے بغیر محض ملاؤں کے اعلان کے نتیجے میں گوجرانوالہ میں جس جلا دی کے ساتھ ، جس ظالمانہ طور پر مارا گیا ہے اس کے واقعات پڑھ کے لزرہ پیدا ہو جاتا ہے۔حافظ سجاد فاروق آف گوجرانوالہ کو 12 اپریل کو اس الزام پر کہ اس نے قرآن کریم کی توہین کی ہے اور اسے جلایا ہے، یہ الزام کیسے لگا اس پر؟ وہ چائے بنارہا تھا ابلتا ہوا پانی غلطی سے اس سے پاس قرآن کریم رکھا ہوا تھا ، اس پر جا پڑا۔اس بے چارے نے استغفار کے رنگ میں تو بہ کے رنگ میں کہا او ہو ہو! مجھ سے کیا گناہ ہو گیا، قرآن جل گیا ہے۔اس کی بیوی نے بلند آواز سے کہا او ہو ہو! کیا ظلم ہو گیا ہمارے ہاں میاں کے ہاتھ سے قرآن جل گیا۔وہ پتلی دیوار تھی ہمسایوں نے اس بات کو سن لیا۔انہوں نے شور مچایا ، مولویوں تک بات پہنچی ، ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔سارا محلہ، اردگرد سے لوگ بلوائی بن کر ا کٹھے ہو گئے، پولیس لائی گئی ، پولیس کے ہاتھوں زبردستی چھین کر اس بے چارے کا جو حشر کیا گیا، بغیر پوچھے، بغیر وضاحت طلب کئے وہ یہ تھا۔یہ ایک خبر کے حوالے سے میں آپ کو بتا