خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 555 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 555

خطبات طاہر جلد 13 555 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء بیٹھنا جس میں خدا تعالیٰ کی آیات کی گستاخی ہو رہی ہو۔یہ قرآنی تعلیم اور قرآنی سزا ہے جو اتنی وضاحت سے پیش کی گئی ہے کہ فرمایا ہے کہ آسمان سے ہم نے تمہارے لئے بطور خاص یہ تعلیم اتاری ہے اگر تم بیٹھو گے ان کے ساتھ تو کیا ہوگا؟ اِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمُ خدا کو تو کوئی نقصان نہیں، اس کے رسولوں کو ، اس کی آیات کو تو کوئی نقصان نہیں ، فتویٰ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو ضائع کر بیٹھو گے اور تم ان جیسے نہ ہو جاؤ اس لئے ہم تمہیں بچانے کی خاطر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اس موقع پر ان سے اٹھ کر الگ ہو جایا کرو۔جہاں تک ان کی سزا کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الله جَامِعُ الْمُنْفِقِينَ وَالْكَفِرِينَ فِى جَهَنَّمَ جَمِيعَا اس کی پرواہ نہ کرو۔یہ اللہ کا کام ہے تمام منافقین اور تمام کافروں کو اللہ تعالیٰ جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔پھر فرمایا وَ إِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي ايْتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ (الانعام: 69 )۔اور اے مخاطب ! اول مخاطب چونکہ واحد ہے اس لئے اول مخاطب حضرت محمد مصطفی عمل اللہ ہیں۔وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي ابْتِنَا جب تو دیکھے ان لوگوں کو جو ہماری آیات میں تمسخر کرتے ہیں، تضحیک سے کام لیتے ہیں اور کئی کئی قسم کی باتیں بناتے ہیں۔فَأَعْرِضْ عَنْهُمُ ان سے اعراض کر ، ان سے منہ پھیرے۔حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِ ؟ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مصروف ہو جائیں پھر ان سے دنیاوی روابط رکھے جاسکتے ہیں۔یہ ہے عظمت قرآن۔یہ ہے کلام اللہ کا حوصلہ اور جگرا۔یہ وہ تعلیم ہے جو مسلمانوں کے علاوہ بطور خاص حضرت محمد مصطفی ﷺ کو دی گئی۔ان آیات کے ہوتے ہوئے اس کے مخالف کوئی معنی نشر کرنا یا قبول کرنا سراسر قرآن اور خدا کی گستاخی ہے۔پس اگر گستاخی کی کوئی سزا ہے تو ان لوگوں کو ملنی چاہئے جو واضح طور پر قرآن کریم کی کھلی کھلی تعلیم کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور اس تعلیم کا انکار کرتے ہیں جو اللہ نے بطور خاص آسمان سے ان کے لئے نازل کی ہے اور اپنے من مانے معافی قرآن کو پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب بھی اپنے حق میں کوئی دلیلیں پیش کرتے ہیں تو ان آیات پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔ذکر تک نہیں ملتا ان آیات کا ان کی باتوں میں۔حالانکہ انصاف کا