خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 554
خطبات طاہر جلد 13 554 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء چلے جائیں قرآن سے پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تمام قرآن میں اس بات کی قطعی گواہیاں موجود ہیں کہ انبیاء کے مخالفین نے اللہ تعالیٰ کی گستاخیاں کیں اور اسی وجہ سے آنحضرت کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو ان کی باتوں سے دل آزار مت ہو، یہ ظالم تو اللہ کے خلاف بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور اللہ اور رسول کی ہتک کو اس طرح ایک جگہ باندھ دیا اور نصیحت صبر کی فرمائی ، نصیحت اعراض کی فرمائی۔کہیں یہ نہیں کہا کہ اس کے نتیجے میں تلوار ہاتھ میں لو اور ان کی گردنیں اڑا دو۔جہاں تک عمومی تکذیب کا تعلق ہے میں نے وہ سب آیات اس لئے چھوڑ دی ہیں کہ ہر قرآن کا قاری جانتا ہے بہت زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وقت تھوڑا ہے لیکن کوئی دنیا کا مولوی ایک بھی ایسا نہیں جو اس اعلان کا جو میں یہاں کر رہا ہوں، اس کا انکار کر سکے۔قرآن کریم کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے خلاف گستاخانہ جملوں کا ذکر فرماتا ہے خدا کی تضحیک،خدا کے ساتھ تمسخر کا ذکر فرماتا ہے اور کسی ایک جگہ بھی انسان کو اجازت نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کی ان گستاخیوں کا بدلہ اپنے ہاتھ میں لے۔کتاب اللہ کی تضحیک کا جہاں تک تعلق ہے صرف قرآن ہی کی نہیں ، اس سے پہلے تمام کتب کی تضحیک کی گئی اور قرآن کی بطور خاص تضحیک کی گئی۔سورۃ نساء آیت 141 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتُبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ أَيْتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَتَسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِةِ * کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کتاب میں یہ تعلیم نازل فرمائی ہے، یعنی عرش سے یہ تعلیم اتاری ہے۔تمہارے لئے کہ جب بھی تم سنو، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا جائے اور ان سے تمسخر کیا جائے اور یا درکھیں کہ آیت اللہ کا مضمون بہت ہی وسیع ہے۔تمام انبیاء بھی آیت اللہ میں شامل ہیں اور تمام کتب ایت اللہ “ میں شامل ہیں تو فرمایا کہ تمہارے لئے ہم نے آسمان سے اس کتاب یعنی قرآن میں یہ تعلیم نازل فرمائی ہے کہ جب بھی تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جاتا ہے یا ان سے تمسخر کیا جاتا ہے تو کیا کرو؟ تلواریں لے کر ان لوگوں کی گردنیں اڑا دو؟ ہر گز نہیں۔فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمُ ان کے پاس نہ بیٹھا کرو۔ہمیشہ کے لئے بائیکاٹ ہے! وہ بھی نہیں۔فرمایا نہ ! حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثِ غَيْرِ ہاں جب وہ دوسری باتیں شروع کریں تو معاشرے کے جو ملنے جلنے کے آداب ہیں ان کے مطابق ان سے بے شک ملنا جلنا رکھو لیکن اس مجلس میں نہیں