خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 553 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 553

خطبات طاہر جلد 13 553 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء بات کر رہے ہو۔ اتنی بری بات ہے کہ تَكَادُ السَّمُوتُ يَتَفَهَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا یہ بات اتنی خطرناک ہے کہ اس سے آسمان پھٹ سکتے ہیں اور زمین دو نیم ہو سکتی ہے ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتی ہے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو سکتے ہیں۔ جس کا خدا پر ایمان ہواس کی طرف سے اس سے بڑی گستاخی نہیں ہو سکتی کہ اس نے اپنے بیٹے بنالئے ہیں یا اس کی کوئی اولاد ہے أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا کس بات سے آسمان پھٹ سکتے ہیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو سکتے ہیں زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتی ہے، دوبارہ دھرایا ہے اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا کہ انہوں نے رحمن کی طرف اولاد منسوب کر دی ہے۔ وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمٰنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا حالانکہ اللہ کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کوئی بیٹا بنالے۔ اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا اتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے وہ اللہ کے حضور ایک غلام کی صورت میں حاضر ہوگا۔ ایک مخلوق، ایک بندے کی صورت میں حاضر ہوگا اور کوئی شخص اس کے بیٹے کے طور پر اس کے حضور حاضر نہیں ہوگا لَقَدْ أَحْصُهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا الله تعالى نے ان کا گھیرا ڈال رکھا ہے اور ان کی گنتی سے خوب باخبر ہے جانتا ہے کہ یہ کتنے لوگ ہیں کون ہیں کیا کچھ کرتے ہیں وَكُلُّهُمْ آتِيْهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ فَرْدًا ( مريم : 89 تا 96) ان میں سے ہر ایک، ایک ایک کرکے، انفرادی طور پر خدا کے حضور حاضر ہوگا۔ یہ ہے وہ تو ہین خداوندی جو ایک مذہبی عقیدے کی بنیاد کے طور پر قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے اور اتنا سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے کہ قریب ہے اس عقیدے سے آسمان اور زمین اور پہاڑ پھٹ پڑیں لیکن اس کے باوجود انسان کو اختیار نہیں بخشا کہ وہ خدا کی گستاخی کرنے والوں کو کوئی بدنی سزادے۔ پھر سورۃ کہف (آیات (56) میں بھی یہی مضمون بیان فرمایا ہے اور فرماتا ہے كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ " بہت ہی خطرناک بات، بہت ہی ظالمانہ بات ہے كَبُرَتْ حد سے بڑھی ہوئی ، حد سے تجاوز کی ہوئی بات ہے إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا سوائے جھوٹ کے یہ لوگ اور کچھ نہیں کہتے ۔ یہ تو قرآن کریم کا بیان ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی توہین کا تعلق ہے اور مختلف جگہوں میں مختلف صورتوں میں جہاں تاریخ انبیاء کا ذکر ہے وہاں ان کے معاندین کا، خدا تعالیٰ کا تحقیر سے ذکر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے نبی کی تاریخ آپ پڑھتے